نئی دہلی میں شدید آلودگی، ٹاپ کھلاڑیوں کا بھارت میں کھیلنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
دنیا کے ٹاپ سیڈڈ بیڈمنٹن کھلاڑیوں میں سے ایک کھلاڑی نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں شدید آلودگی کی وجہ سے انڈیا اوپن ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔
عالمی نمبر 3 آندرے اینٹنسن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے دہلی میں ہوا کے انتہائی خراب معیار کی وجہ سے ایونٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈینش کھلاڑی نے مزید بتایا کہ حصہ نہ لینے کی وجہ سے بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن نے ان پر 5000 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
آندرے اینٹنسن نے ایک سوئٹزرلینڈ کی ایئر کوالٹی مانٹرنگ کمپنی آئی کیو ایئر کا ایک اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس میں بدھ کے روز دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 348 بتایا گیا تھا، جس کو ’انتہائی خراب‘ قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اس وقت دہلی شدید آلودگی کی وجہ سے ان کا نہیں خیال کہ اس جگہ بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی وجہ سے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔