ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود کارروائی پر غور، سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس جلد متوقع
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کا مقصد نظام پر تیز اور مؤثر ضرب لگانا ہو اور ایسی جنگ نہ کھڑی ہو جو ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران میں احتجاج اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مظاہرین کے تحفظ کے لیے ممکنہ مداخلت کی دھمکیوں کے پیشِ نظر کشیدگی میں اضافے کے درمیان ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ آج جمعرات کو اپنا فوجی فیصلہ سنائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے ٹیم کو بتایا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کا مقصد نظام پر تیز اور مؤثر ضرب لگانا ہو اور ایسی جنگ نہ کھڑی ہو جو ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکے، جیسا کہ ایک امریکی اہلکار مذاکرات سے واقف دو افراد اور وائٹ ہاؤس کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا۔
اگر ٹرمپ کوئی اقدام کرتے ہیں، تو وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلہ کن ہو۔تاہم امریکی صدر کے مشیروں نے ابھی تک انہیں یہ یقین دہانی نہیں کرا سکی کہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد ایرانی نظام جلد ہی منہدم ہو جائے گا، جیسا کہ ایک امریکی اہلکار اور مذاکرات سے واقف دو افراد نے بتایا۔اس کے علاوہ اس بات کی تشویش بھی ہے کہ امریکا کے پاس اس علاقے میں مکمل عسکری وسائل موجود نہیں ہیں تاکہ ایرانی جانب سے متوقع شدید ردعمل سے بچا جا سکے، جیسا کہ انتظامیہ کے اہلکار توقع کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پینٹاگون ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں موجود ڈسٹرائرز سے ٹوماہاک میزائل داغنے کا حکم دے سکتا ہے، ساتھ ہی علاقے میں موجود جنگی طیارے اور امریکہ میں موجود اڈوں سے ایران کے اندر پہنچنے والے بمباری کرنے والے طیارے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے اطلاع دی۔
توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج جمعرات کی دوپہر کو ایران کی صورتحال پر بریفنگ کے لیے اجلاس کرے گی، جیسا کہ کونسل کے لیے صومالیہ کی صدارت کے ترجمان نے اعلان کیا۔
شیڈول نوٹ کے مطابق اس اجلاس کی درخواست امریکا نے کی ہے۔یہ اجلاس اس کے بعد بلایا گیا ہے کہ 28 دسمبر سے ایران میں وسیع احتجاجات دیکھنے میں آئے، جو ابتدا میں اقتصادی اور روزمرہ زندگی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف تھے، لیکن بعد میں یہ حکام کے خلاف سیاسی مظاہروں کی شکل اختیار کر گئے۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کل شام کہا کہ ملک بھر میں صورتحال اب مستحکم ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ دہشت گرد مظاہرین میں گھس کر ان پر اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر رہے ہیں تاکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف کے مطابق جیسا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔