Islam Times:
2026-07-24@10:32:41 GMT

مسلم دنیا کی نئی سفارتی صف بندی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

مسلم دنیا کی نئی سفارتی صف بندی

اسلام ٹائمز: محمد بن سلمان نے امریکہ کو واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی جارحیت کے لئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ یقینی طور پر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے حالات کی نزاکت اور حساسیت کو سمجھتے ہوئے درست فیصلہ کیا ہے جس پر دنیا بھر میں سعودی شہزادے کو داد مل رہی ہے۔کاش یہی موقف مستقل رہے اور باہمی تعاون اور اتحاد کی یہی فضاء قائم و دائم رہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

گزشتہ چند برسوں کے دوران غرب ایشیائی خطے میں جو بڑی جیو پولیٹیکل تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، ان میں سب سے اہم پہلو ایران کے ساتھ مسلمان ممالک کی پالیسیوں میں آنے والا بدلاؤ ہے۔ یہ بدلاؤ خاص طور پر ایسے حالات میں سامنے آیا ہے کہ جب گذشتہ برس 12 روزہ ایران اور اسرائیل جنگ جاری رہی اور حالیہ دنوں میں ایران میں جاری شورش اور امریکی و اسرائیلی سازشیں عروج پر تھیں۔ حالیہ دنوں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو تاریخ میں پہلے کبھم ہی مشاہدہ کئے گئے ہیں۔ امریکی حکومت مسلسل طاقت کے ذریعہ دنیا کے خو دمختار ممالک کو مجبور کررہی ہے کہ وہ امریکی بلاک کے سامنے سر جھکا دیں۔ اس کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ طاقت کا محور اور مرکز مغربی دنیا سے مشرقی دنیا کی طرف منتقلی کے مراحل میں ہے۔ شاید اسی لئے امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ اگر اب بھی جارحانہ عزائم کے ذریعہ اس عمل کو نہ روکا گیا تو پھر امریکی سپر پاور کا بھرم خاک ہوجائے گا۔

غرب ایشیائی ممالک میں امریکہ اور یورپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ، اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی، اور عالمی نظام کی نئی صف بندی نے خطے کی ریاستوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنے پرانے تنازعات، غلط فہمیوں اور سفارتی خلیج کو ختم کرتے ہوئے ایک نئے اشتراک کی طرف بڑھیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جس کے لئے برس ہا برس سے کوشش کی جاتی رہی ہے کہ مسلم دنیا کم سے کم آپس میں تعاون کی فضاء کو قائم کرے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ کوشش کرے۔ ایران برسوں تک مغربی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کا شکار رہا، مگر اس عرصے میں اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت بلکہ علاقائی اثر و نفوذ کو بھی مستحکم کیا۔

یہی وجہ ہے کہ آج ایران نئے عالمی بلاک جس میں چین اور روس مرکزی کردار رکھتے ہیں کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ اسی دوران خطے کے متعدد مسلمان ممالک نے بھی محسوس کیا کہ ایران کو تنہا چھوڑنا دراصل خود کو کمزور کرنا ہے۔ حالیہ دنوں ایران کے اندر امریکی و اسرائیلی ایماء پر ہونے والے واقعات نے خطے کی عرب و غیر عرب ریاستوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر آج بھی ایران کا ساتھ نہ دیا تو پھر عنقریب یا دیر سے ہم سب کی باری آئے گی۔ ایران کی موجودہ صورتحال میں ترکی سمیت قطر، سعودی عرب اور عمان اور پاکستان کا کردار کھل کر سامنےآیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایران کی حمایت کی ہے اور ایران کا ساتھ دیا ہے۔ ایران کے خلاف گذشتہ اسرائیلی جارحیت پر بھی پاکستان نے بڑھ چڑھ کر ایران کا ساتھ دیا اور اس کے جواب میں آج تک ایران پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

موجودہ حالات میں ترکی نے سب سے پہلے ایران کے ساتھ توانائی، تجارت اور سیکورٹی کی بنیاد پر عملی قربت اختیار کی۔ ایران سے قدرتی گیس کی درآمد، شام اور عراق میں مشترکہ سیکورٹی خدشات، اور فلسطین کے مسئلے پر بیانیہ ہم آہنگی نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ اگرچہ ترکی نیٹو کا حصہ ہے مگر امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں سے اختلاف نے انقرہ کو تہران کے لیے سفارتی گنجائش پیدا کرنے پر مجبور کیا۔یہی وجہ ہے کہ ترک حکومت گذشتہ دو ہفتوں سے ایران میں ہونے والی سازشو ں کی مذمت کررہی ہے اور امریکہ کو بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ترکی اپنی فضائی حدود سے ایران کے خلاف کسی قسم کی امریکی کاروائی کو قبول نہیں کرے گا۔ترکی کا یہ موقف تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ایسے موقع پر کہ جب کچھ عرصہ قبل ہی ترکی نے شام کے معاملہ میں ایران کے خلاف محاذ کی قیادت کی تھی لیکن آج یہی ترکی ہے جو خطرے کا ادراک کرتے ہوئے درست سفارتکاری کو انجام دے کر دنیا کو بتا رہاہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سب مسلمان ممالک ایسے ہی موقف اپناتے ہوئے ایران کا دفاع کریں اور ایران کا ساتھ دیں۔

قطر کا ایران کے ساتھ تعلق نہ صرف سفارتی ہے بلکہ معاشی اور توانائی کے اشتراک پر مبنی ہے۔ خلیجی بحران کے دوران جب قطر پر پابندیاں لگائی گئیں تو ایران نے اسے زمینی اور بحری راستے سے سپورٹ فراہم کی۔ دونوں ممالک کا مشترکہ گیس فیلڈ South Pars خطے کی توانائی اہمیت میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین کے مسئلے پر قطر اور ایران دونوں اسرائیلی جارحیت کے خلاف سرگرم ہیں۔لہذا قطر کی جانب سے سیاسی بیانیہ کہ قطر کی فضائی حدود اور خاص طور پر قطر میں موجود امریکی بیس سے ایران کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قطر کا یہ بیانیہ امریکہ کے مقابلہ میں واقعی قابل تعریف ہے چاہے اس پر قطر عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، لیکن سفارتی دنیا میں قطرنے ثابت کیا ہے کہ وہ تاریخ کے درست سمت میں سفارتکاری انجام دے رہاہے اور خطے کو لاحق امریکی خطرات سے نمٹنے کے لئے ایران کا ساتھ دینا ضروری ہے۔

ان تمام حالات میں سعودی عرب کا موقف بھی قابل تعریف رہاہے۔ عام طور پر دنیا میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران دشمن ہیں اور ان کے مابین کوئی صلح اور دوستی کاراستہ نہیں نکل سکتا۔لیکن گذشتہ چند سالوں میں ایران اور سعودی عرب کے مابین ہونے والی سفارتکاری نے ثابت کیا ہے کہ یہ سب دعوے درست نہیں ہیں۔سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب ماضی میں ایران کا سب سے بڑا علاقائی حریف رہا ہے مگر 2023ء میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہوئےہیں۔جیساکہ درج بالا سطور میں سفارتی تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف خلیج میں امن کے لیے اہم تھا بلکہ اس نے عالمی طاقت کے توازن میں ایک واضح تبدیلی کا اعلان کیا۔ آج فلسطین پر اسرائیلی حملوں کے خلاف سعودی عرب کی سفارتی پوزیشن ایران کے موقف سے قریب تر دکھائی دیتی ہے۔

یمن جنگ کے خاتمے اور خلیجی سیکورٹی کے معاملات میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہو چکے ہیں۔ باہمی تعاون جاری ہے۔ اسی باہمی تعاون کا نتیجہ ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے ایران پر امریکی ممکنہ حملوں کی مخالفت کا موقف اپنایا ہے۔ محمد بن سلمان نے امریکہ کو واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی جارحیت کے لئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ یقینی طور پر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے حالات کی نزاکت اور حساسیت کو سمجھتے ہوئے درست فیصلہ کیا ہے جس پر دنیا بھر میں سعودی شہزادے کو داد مل رہی ہے۔کاش یہی موقف مستقل رہے اور باہمی تعاون اور اتحاد کی یہی فضاء قائم و دائم رہے۔

جہاں تک مسقط کی بات ہے تو عمان ہمیشہ سے خلیج کا مضبوط سفارتی مرکز رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی بیک ڈور رابطے عمان کے ذریعے ہوئے۔ عمان نے نہ صرف ایران کو عالمی تنہائی سے نکالنے میں کردار ادا کیا بلکہ خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی عمان ایران کے لیے ایک قابل اعتماد ہمسایہ ہے۔حالیہ دنوں میں عمان کا موقف خاموش ہی سہی لیکن ایران کے خلاف نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خطے کے ممالک نے ایک طویل مدت کے بعد اپنے فیصلے خود کرنا شروع کر دئیے ہیں لیکن ابھی بھی ان میں کچھ مشکلات باقی ہیں جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جائیں گی۔ ایران کو ان ممالک کے علاوہ کئی اور ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے جن میں بحرین، کویت، الجزائر، عراق اور دیگر بھی شامل ہیں۔مسلم دنیا کے اس نئے رویے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے اب امریکی مداخلت اور اسرائیلی دباؤ کے بجائے اپنے علاقائی مفاد، عوامی جذبے اور اسٹریٹجک سوچ کی بنیاد پر کرنے لگی ہے۔یہی مسلم دنیا کی نئی سفارتی صف بندی ہے جس کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہمیشہ موجود رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے خلاف ایران کا ساتھ کہ سعودی عرب باہمی تعاون دونوں ممالک ہے کہ سعودی حالیہ دنوں میں ایران مسلم دنیا اور ایران کیا ہے کہ ممالک کے ان ممالک ہے کہ وہ کے ساتھ ہے کہ ا اور اس رہی ہے کے لئے ہے اور لیکن ا

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل