مسلم دنیا کی نئی سفارتی صف بندی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: محمد بن سلمان نے امریکہ کو واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی جارحیت کے لئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ یقینی طور پر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے حالات کی نزاکت اور حساسیت کو سمجھتے ہوئے درست فیصلہ کیا ہے جس پر دنیا بھر میں سعودی شہزادے کو داد مل رہی ہے۔کاش یہی موقف مستقل رہے اور باہمی تعاون اور اتحاد کی یہی فضاء قائم و دائم رہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
گزشتہ چند برسوں کے دوران غرب ایشیائی خطے میں جو بڑی جیو پولیٹیکل تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، ان میں سب سے اہم پہلو ایران کے ساتھ مسلمان ممالک کی پالیسیوں میں آنے والا بدلاؤ ہے۔ یہ بدلاؤ خاص طور پر ایسے حالات میں سامنے آیا ہے کہ جب گذشتہ برس 12 روزہ ایران اور اسرائیل جنگ جاری رہی اور حالیہ دنوں میں ایران میں جاری شورش اور امریکی و اسرائیلی سازشیں عروج پر تھیں۔ حالیہ دنوں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو تاریخ میں پہلے کبھم ہی مشاہدہ کئے گئے ہیں۔ امریکی حکومت مسلسل طاقت کے ذریعہ دنیا کے خو دمختار ممالک کو مجبور کررہی ہے کہ وہ امریکی بلاک کے سامنے سر جھکا دیں۔ اس کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ طاقت کا محور اور مرکز مغربی دنیا سے مشرقی دنیا کی طرف منتقلی کے مراحل میں ہے۔ شاید اسی لئے امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ اگر اب بھی جارحانہ عزائم کے ذریعہ اس عمل کو نہ روکا گیا تو پھر امریکی سپر پاور کا بھرم خاک ہوجائے گا۔
غرب ایشیائی ممالک میں امریکہ اور یورپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ، اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی، اور عالمی نظام کی نئی صف بندی نے خطے کی ریاستوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنے پرانے تنازعات، غلط فہمیوں اور سفارتی خلیج کو ختم کرتے ہوئے ایک نئے اشتراک کی طرف بڑھیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جس کے لئے برس ہا برس سے کوشش کی جاتی رہی ہے کہ مسلم دنیا کم سے کم آپس میں تعاون کی فضاء کو قائم کرے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ کوشش کرے۔ ایران برسوں تک مغربی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کا شکار رہا، مگر اس عرصے میں اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت بلکہ علاقائی اثر و نفوذ کو بھی مستحکم کیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج ایران نئے عالمی بلاک جس میں چین اور روس مرکزی کردار رکھتے ہیں کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ اسی دوران خطے کے متعدد مسلمان ممالک نے بھی محسوس کیا کہ ایران کو تنہا چھوڑنا دراصل خود کو کمزور کرنا ہے۔ حالیہ دنوں ایران کے اندر امریکی و اسرائیلی ایماء پر ہونے والے واقعات نے خطے کی عرب و غیر عرب ریاستوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر آج بھی ایران کا ساتھ نہ دیا تو پھر عنقریب یا دیر سے ہم سب کی باری آئے گی۔ ایران کی موجودہ صورتحال میں ترکی سمیت قطر، سعودی عرب اور عمان اور پاکستان کا کردار کھل کر سامنےآیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایران کی حمایت کی ہے اور ایران کا ساتھ دیا ہے۔ ایران کے خلاف گذشتہ اسرائیلی جارحیت پر بھی پاکستان نے بڑھ چڑھ کر ایران کا ساتھ دیا اور اس کے جواب میں آج تک ایران پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
موجودہ حالات میں ترکی نے سب سے پہلے ایران کے ساتھ توانائی، تجارت اور سیکورٹی کی بنیاد پر عملی قربت اختیار کی۔ ایران سے قدرتی گیس کی درآمد، شام اور عراق میں مشترکہ سیکورٹی خدشات، اور فلسطین کے مسئلے پر بیانیہ ہم آہنگی نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ اگرچہ ترکی نیٹو کا حصہ ہے مگر امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں سے اختلاف نے انقرہ کو تہران کے لیے سفارتی گنجائش پیدا کرنے پر مجبور کیا۔یہی وجہ ہے کہ ترک حکومت گذشتہ دو ہفتوں سے ایران میں ہونے والی سازشو ں کی مذمت کررہی ہے اور امریکہ کو بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ترکی اپنی فضائی حدود سے ایران کے خلاف کسی قسم کی امریکی کاروائی کو قبول نہیں کرے گا۔ترکی کا یہ موقف تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ایسے موقع پر کہ جب کچھ عرصہ قبل ہی ترکی نے شام کے معاملہ میں ایران کے خلاف محاذ کی قیادت کی تھی لیکن آج یہی ترکی ہے جو خطرے کا ادراک کرتے ہوئے درست سفارتکاری کو انجام دے کر دنیا کو بتا رہاہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سب مسلمان ممالک ایسے ہی موقف اپناتے ہوئے ایران کا دفاع کریں اور ایران کا ساتھ دیں۔
قطر کا ایران کے ساتھ تعلق نہ صرف سفارتی ہے بلکہ معاشی اور توانائی کے اشتراک پر مبنی ہے۔ خلیجی بحران کے دوران جب قطر پر پابندیاں لگائی گئیں تو ایران نے اسے زمینی اور بحری راستے سے سپورٹ فراہم کی۔ دونوں ممالک کا مشترکہ گیس فیلڈ South Pars خطے کی توانائی اہمیت میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین کے مسئلے پر قطر اور ایران دونوں اسرائیلی جارحیت کے خلاف سرگرم ہیں۔لہذا قطر کی جانب سے سیاسی بیانیہ کہ قطر کی فضائی حدود اور خاص طور پر قطر میں موجود امریکی بیس سے ایران کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قطر کا یہ بیانیہ امریکہ کے مقابلہ میں واقعی قابل تعریف ہے چاہے اس پر قطر عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، لیکن سفارتی دنیا میں قطرنے ثابت کیا ہے کہ وہ تاریخ کے درست سمت میں سفارتکاری انجام دے رہاہے اور خطے کو لاحق امریکی خطرات سے نمٹنے کے لئے ایران کا ساتھ دینا ضروری ہے۔
ان تمام حالات میں سعودی عرب کا موقف بھی قابل تعریف رہاہے۔ عام طور پر دنیا میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران دشمن ہیں اور ان کے مابین کوئی صلح اور دوستی کاراستہ نہیں نکل سکتا۔لیکن گذشتہ چند سالوں میں ایران اور سعودی عرب کے مابین ہونے والی سفارتکاری نے ثابت کیا ہے کہ یہ سب دعوے درست نہیں ہیں۔سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب ماضی میں ایران کا سب سے بڑا علاقائی حریف رہا ہے مگر 2023ء میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہوئےہیں۔جیساکہ درج بالا سطور میں سفارتی تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف خلیج میں امن کے لیے اہم تھا بلکہ اس نے عالمی طاقت کے توازن میں ایک واضح تبدیلی کا اعلان کیا۔ آج فلسطین پر اسرائیلی حملوں کے خلاف سعودی عرب کی سفارتی پوزیشن ایران کے موقف سے قریب تر دکھائی دیتی ہے۔
یمن جنگ کے خاتمے اور خلیجی سیکورٹی کے معاملات میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہو چکے ہیں۔ باہمی تعاون جاری ہے۔ اسی باہمی تعاون کا نتیجہ ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے ایران پر امریکی ممکنہ حملوں کی مخالفت کا موقف اپنایا ہے۔ محمد بن سلمان نے امریکہ کو واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی جارحیت کے لئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ یقینی طور پر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے حالات کی نزاکت اور حساسیت کو سمجھتے ہوئے درست فیصلہ کیا ہے جس پر دنیا بھر میں سعودی شہزادے کو داد مل رہی ہے۔کاش یہی موقف مستقل رہے اور باہمی تعاون اور اتحاد کی یہی فضاء قائم و دائم رہے۔
جہاں تک مسقط کی بات ہے تو عمان ہمیشہ سے خلیج کا مضبوط سفارتی مرکز رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی بیک ڈور رابطے عمان کے ذریعے ہوئے۔ عمان نے نہ صرف ایران کو عالمی تنہائی سے نکالنے میں کردار ادا کیا بلکہ خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی عمان ایران کے لیے ایک قابل اعتماد ہمسایہ ہے۔حالیہ دنوں میں عمان کا موقف خاموش ہی سہی لیکن ایران کے خلاف نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خطے کے ممالک نے ایک طویل مدت کے بعد اپنے فیصلے خود کرنا شروع کر دئیے ہیں لیکن ابھی بھی ان میں کچھ مشکلات باقی ہیں جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جائیں گی۔ ایران کو ان ممالک کے علاوہ کئی اور ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے جن میں بحرین، کویت، الجزائر، عراق اور دیگر بھی شامل ہیں۔مسلم دنیا کے اس نئے رویے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے اب امریکی مداخلت اور اسرائیلی دباؤ کے بجائے اپنے علاقائی مفاد، عوامی جذبے اور اسٹریٹجک سوچ کی بنیاد پر کرنے لگی ہے۔یہی مسلم دنیا کی نئی سفارتی صف بندی ہے جس کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہمیشہ موجود رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف ایران کا ساتھ کہ سعودی عرب باہمی تعاون دونوں ممالک ہے کہ سعودی حالیہ دنوں میں ایران مسلم دنیا اور ایران کیا ہے کہ ممالک کے ان ممالک ہے کہ وہ کے ساتھ ہے کہ ا اور اس رہی ہے کے لئے ہے اور لیکن ا
پڑھیں:
نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
راو دلشاد: محمد نواز شریف گلگت بلتستان کے دورے کے لیے روانہ ہو گئے، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور کے اولڈ ایئرپورٹ سے گلگت بلتستان روانہ ہوئے۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف اور رانا ثناء اللہ خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
دورے کے دوران نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈرز اور مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سربراہ گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مختلف عوامی جلسوں سے بھی خطاب کریں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات