حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کےلئے سعودیہ سے رابطے میں ہیں:سردار یوسف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور+اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار+خبر نگار ) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ آبادی کے تناسب سے سالانہ حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کےلئے سعودی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ امید ہے کہ دیگر ممالک کےساتھ پاکستان کے کوٹہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر دیا جائےگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر نجی حج سکیم میں حج پیکیج کےلئے اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ میں عازمین حج کی دوہری امیگریشن کےلئے لاہور کو بھی شامل کرنے کیلئے کام تیزی سے جاری ہے۔ حج 2025ءکے بعد 75فیصد شکایات کم ہوئیں، حج 2026ءکےلئے 38 ہزار سے زائد عازمین حج اسلام آباد ائیرپورٹ سے روٹ ٹو مکہ کے ذریعے امیگریشن کرائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حج کمپلیکس اسلام آباد میں حج تربیتی ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب اور میڈ یا سے گفتگو میں کیا۔ سردار یوسف نے کہا وفاقی کابینہ سے منظور شدہ حج پالیسی 2026ءکی روشنی میں تمام انتظامات سعودی ٹائم لائن کے مطابق بروقت مکمل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بہترین انتظامات پر سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو ”ایکسیلنس ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔ ہمارا ہدف ٹاپ تھری ممالک میں شامل ہونا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔