Jasarat News:
2026-07-24@04:04:37 GMT

سندھ: لسانی ثقافت نمایاں کرنے کا جنون

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-03-5
پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں دو بڑی لسانی اکائیوں کے درمیان اپنی اپنی ثقافت کو نمایاں کرنے کا جنون کچھ برسوں سے سوار ہے۔ ایک نے ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے کو اپنی ثقافت کے حوالے سے علامتی پروگرام پوری دنیا میں خوب دھوم دھام، رقص و سرود کی محافل تہوار کے روپ میں منعقد کیے اور اجرک، ٹوپی اور پگڑی کا اہتمام کرکے بچوں بوڑھوں اور جوانوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو دوسری بڑی لسانی اکائی نے دسمبر کے آخری ہفتے کو اپنی ثقافت کے طور پر پوری دنیا میں منانے کا اہتمام کیا۔ کراچی جو صوبائی دارالحکومت ہے کو دونوں لسانی اکائیوں نے بھر پور قوت کے اظہار کا مرکز بنا کر جلسے جلوس منعقد کیے۔ سال کے آخری ماہ دسمبر میں دوطرفہ ثقافت کو جو رخصت ہوتی جارہی ہے اس کو خوشی کے ساتھ نئی زندگی دینے کا اہتمام کیا گیا یا یہ ایک روز منا کررخصتی دی گئی اور ننگے سر ہوگئے۔ سندھ کی ثقافت قدیم ہے اور اس پر اسلام کا رنگ غالب ہے، اس کی ٹوپی میں محراب ہے اس کا بچھونا (بستر) رلی جو کپڑے کی ٹکڑیوں سے جوڑ کر بنائی جاتی ہے یکجہتی کی علامت ہے۔ اس دھرتی پر اسلام کی ثقافت کے گہرے اثرات رہے ہیں اور برقرار بھی ہیں۔ اس دھرتی کے انصار نے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا کردار اپنا کر مسلم امہ جسد واحد اور شریک سکھ دکھ ہیں کی مثال تازہ کی جس سے لٹے پٹے ہجرت کرکے آنے والوں کے زخم بھی جلد مندمل ہوگئے اور مل جل کر دل سے ترقی کا سفر شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے صوبہ سندھ کی ترقی بے مثال ہوگئی۔

سندھ ہمیشہ سے بھارت کے ہندوتوا نظریے کی نفرت کا مرکز رہا ہے کیوں کہ یہ باب اسلام ہے اور ہندوستان کو فتح کرنے اور اس کے نظریہ کو سرنگوں کرنے کی بنیاد رہا ہے۔ بھارت کے ہندو توا کے ایک مرکزی لیڈر نے تو وصیت کررکھی ہے کہ اس کی لاش کی راکھ محفوظ رکھی جائے اور جب سندھ فتح کرلو تو اس راکھ کو دریائے سندھ میں بہا دینا، وہ راکھ اب تک بھارت سرکار اور اس کے پیروکار سنبھالے چلے آرہے ہیں۔ سو سندھ کو فتح کرنے کے سپنے کو عملی شکل دینے کے لیے بھارت دونوں لسانی اکائیوں کو کمزور کرنے کے پروگرام پر دونوں طبقوں میں سرمایہ لگا کر آپس میں لڑانے میں مصروف ہے اور اس کی آلہ کار قیادتوں کے لاڈ پیار کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں۔ سندھ میں بالخصوص لسانی زہر ایک منصوبہ کے تحت نصف صدی قبل انڈیلا گیا جس نے انسانی جان ومال کی بھینٹ لی، ایک ہی کلمہ گو لپیٹ میں آئے۔ سندھ کی ترقی کو گھن لگ گیا؛ سرمایہ کاری جو امن آشتی کی فضا میں پرورش پاتی ہے صوبہ سندھ میں وینٹی لیٹر پر چلی گئی۔ بڑی مشکل سے سانسیں بحال ہوئی تو ایک عشرہ سال سے پھر ثقافت کو نمایاں کرنے کا لسانی جنون کچھ شدت اختیار کرنے لگا ہے جو کچھ کی سیاسی ضرورت کے لیے بھی ابھارہ جارہا ہے اور عوام کے ثقافت سے جذباتی لگائو کو کیش کرکے ٹھٹھرتی سیاست کو زندہ رکھنے کا ایام جاہلیت والا ہتھکنڈا استعمال میں لایا جارہا ہے جو خدانخواستہ اگر بھڑک اٹھا تو بہت کچھ خاکستر کردے گا۔

یہ منافقوں کا پرانا ہتھکنڈا رہا ہے رسول اللہؐ کے دور میں بھی اس قسم کا واقعہ سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ مہاجر اور انصار کے ایک تنازع میں دونوں نے اپنے اپنے گروہ کو نام لے کر مدد کے لیے پکارا آپؐ کو خبر ہوئی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے۔ اس پکار کو جاہلیت قرار دے کر سختی سے منع کیا اور فریقین میں صلح کرادی اور یوں منافقین کی لسانی جنگ کرانے کی سازش ناکام ہوگئی۔ کس نے کس کی ثقافت سے منع کیا اور کسی نے ایام جاہلیت والی بات کہی تو اس کی سرکوبی کی جاتی کہ چے جائیکہ مسلم کلمہ گو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر توانائی صرف کرکے دشمن اسلام کے منصوبے کو پروان چڑھائیں یہ کش مکش سندھ دشمنی ہے خدا را عقل سلیم سے کام لیں۔

سندھ کی تہذیب کے حوالے سے اس کی بستی منصورہ جو سندھ کا قدیم شہر ہے تاریخ دان مورخ ابن حوقل مقدس دورہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ بازار میں ہار سنگھار سے آراستہ کوئی عورت دیکھنے کو نہیں ملتی تھی اور نہ ہی کوئی مرد ان سے ہنس کر بات کر سکتا تھا۔ (ابن حوقل ص 232، احسن التقاسیم ص 800) اسلام تو ہر قسم کے تعصب کی مذمت کرتا اور اس کے کچھ اصول لباس سے لے کر بود باش تک ہیں جو انسانی آسائش اور راحت کا اہتمام کرتے ہیں، لباس کو تو راحت جسم سے جوڑا اور ثقافت کو بے ہودگی سے پاک اور شفاف رکھا۔ رنگ وروپ کا ڈھونگ تو پھوٹ کی علامت ہے، اسلام تو جسد واحد کی بات کرتا ہے وہ کردار پر زور دیتا ہے۔ محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رنگ وروپ کا تعصب تو ہندو انتہا پسند بجرنگ دل کا نظریہ ہے اور بھارت اس کا بدترین مرکز ہے۔ حال ہی میں کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو ان انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراسان کیا اور معترض ہوئے، سانتا کلاز کی ٹوپیاں پہنے خواتین بچوں کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا اور غیر ہندو ثقافت قرار دے کر گھروں تک محدود رہنے کی دھمکی دی۔

رسول اللہؐ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر یہ دعائیہ کلمات زبان اقدس پر تھے ’’اے اللہ! زندگی ہے تو بس آخرت کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے اور غزوہ خندق کے موقع پر کھدائی کے وقت یہ دعائیہ کلمات مبارک زبان پر تھے ’’اے اللہ اجر تو بس آخرت کا ہے پس انصار اور مہاجرین پر رحم فرما‘‘، آمین ثم آمین

عبدالتواب شیخ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا اہتمام ثقافت کو سندھ کی اور اس ہے اور

پڑھیں:

ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا

ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔

ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔

Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN

— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026

اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘

دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔

تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن