تھائی لینڈ : 24 گھنٹے کے دوران دوسرا حادثہ‘ ایک اور کرین گرگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنکاک (انٹرنیشنل ڈیسک) تھائی لینڈ میں ایک اور ہولناک تعمیراتی حادثہ پیش آیا ،جہاں دارالحکومت کے قریب راما 2 روڈ کے ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبے پر تعمیراتی کرین گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ حادثہ جمعرات کی صبح تقریباً 9 بجے ساموت ساکھون صوبے میں پیش آیا۔ حکام کے مطابق کرین گرنے سے 2گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں جبکہ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کی مکمل تصدیق نہیں کی گئی، تاہم فائر اینڈ ریسکیو تھائی لینڈ کے مطابق کم از کم ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب صرف ایک دن قبل شمال مشرقی صوبے ناکھون راتچاسیما میں ایک کرین گرنے سے مسافر ٹرین تباہ ہوئی تھی، جس میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور حکام کے مطابق ٹرین میں موجود 171 مسافروں میں سے 3افراد کے بارے میں تحقیقات جاری ہے۔حکام نے بتایا کہ گرنے والی کرین ایک لانچنگ گینٹری کرین تھی، جو عام طور پر بلند سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں حادثات کی تحقیقات جاری ہے اور تاحال کسی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ راما 2 روڈ ایکسپریس وے منصوبہ ماضی میں بھی متعدد مہلک تعمیراتی حادثات کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں تعمیراتی منصوبوں کی حفاظت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔