شُح اور صُلح: دو متضاد رویے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شُح (ش ح ح) اور صُلح (ص ل ح)۔ یہ محض دو الفاظ نہیں، بلکہ دو اہم انسانی رویے ہیں۔ یہ دونوں رویے ایک دوسرے کی مکمل ضد ہیں۔ ایک انسان کو پستی کی طرف لے جاتا ہے تو دوسرا اسے بلندی عطا کرتا ہے۔
ماہرین لغت کہتے ہیں کہ شح بخل سے زیادہ سنگین چیز ہے۔ روک رکھنے اور نہ دینے کی کیفیت اس میں بخل سے زیادہ شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ بخل صرف مال کی حد تک ہوتا ہے، جب کہ شح مال میں تو ہوتا ہی ہے، اس کے علاوہ نیکی کے ہر کام میں بھی ہوتا ہے۔ بخیل صرف مالی مدد میں پیچھے رہتا ہے، جب کہ شحیح کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی بھلائی نہیں کرتا۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ شح میں کنجوسی اور لالچ دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔ جو صرف کنجوس ہوتا ہے وہ دوسروں کے مال سے مطلب نہیں رکھتا، بس اپنے مال کو بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔ جب کہ جو کنجوس اور لالچی دونوں ہوتا ہے (یعنی شحیح) وہ اپنے مال کو دوسروں پر خرچ نہیں کرتا اور دوسروں کے مال کو ہتھیا لینا چاہتا ہے۔
شُح کی معنویت کو ادا کرنے والا لفظ ”خود غرضی“ہے۔ یعنی صرف اپنی فکر۔ خود غرض انسان کو صرف اپنی پروا ہوتی ہے باقی کسی کی پروا نہیں ہوتی۔ اس کو سب کچھ مل جائے اور باقی کسی کو کچھ نہ ملے۔ اسے خود جیتنے اور دوسروں کو ہرانے میں مزا آتا ہے۔ وہ دوسروں کے جذبات کی بالکل رعایت نہیں کرتا ہے اور اپنے جذبات کی پوری پوری تسکین چاہتا ہے۔
صلح کی معنویت کو ادا کرنے والا لفظ ”ایثار“ ہے۔ دوسروں کے بھلے کے لیے اپنے حقوق سے دست برداری ۔ ایثار پسند انسان دوسروں کا خیال کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی خاطر اپنے کچھ مفادات سے بھی دست بردار ہوجاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب جیت جائیں۔ سب کی جیت کے لیے وہ کبھی کبھی ہارنا بھی گوارا کرلیتا ہے۔
شح نفس پرستی کا مظہر ہے اور صلح بے نفسی کا۔ جتنی زیادہ نفس پرستی ہوگی اتنا ہی زیادہ شح والا رویہ ہوگا اور جتنی زیادہ بے نفسی ہوگی اتنا ہی زیادہ صلح والا رویہ ہوگا۔
******
قرآن مجید میں صلح کی تعریف کی گئی ہے، ترجمہ: ”اور صلح خیر ہے“ (النساء: 128)۔
دو لفظوں پر مشتمل یہ زندگی کا نہایت قیمتی اصول ہے۔ جو شخص صلح کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے حق میں ہی نہیں، پورے انسانی سماج کے حق میں بھلائی کا دروازہ کھولتا ہے۔
قرآن مجید میں شح کو انسان کے لیے بہت بڑا خطرہ اور کامیابی کی راہ کی بہت بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، جب کہ شح سے چھٹکارے کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا۔ فرمایا گیا: ”اور جو خود اپنی خود غرضی سے بچالیے گئے، تو وہی فلاح پانے والے ہیں“ (الحشر: 9؛ التغابن: 16)۔
شح تو دراصل نفس ہی کی کیفیت ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ”نفسہ“ کہنے سے جملے کی معنویت میں ایک لطیف اور اہم اضافہ ہوا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا شح (خود غرضی) ہے، اس لیے اسے خود اپنے شح سے بچنے کی فکر کرنا چاہیے۔ لوگ عام طور سے دوسروں کی خود غرضیوں سے ڈرتے اور ہوشیار رہتے ہیں۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ خود غرض انسان اپنے آس پاس والوں کو نقصان ہی پہنچاتا ہے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ہے۔ وہ کب کس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دے اور کس کی آستین کا سانپ بن جائے کچھ پتا نہیں رہتا۔ لیکن خود غرض انسان دوسروں کو جو بھی نقصان پہنچاتا ہے وہ دنیا کی حقیر و فانی متاع کا نقصان ہوتا ہے۔ خود غرض انسان خود اپنا جو نقصان کرتا ہے وہ ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ خود غرضی انسان سے اس کا جوہر چھین لیتی ہے۔ وہ انسان پر نیکی اور بھلائی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اس طرح وہ انسان کو حقیقی کامیابی کے راستے سے بہت دور کردیتی ہے۔
قرآن مجید میں دو جگہوں پر یہ بات کہی گئی کہ جسے خود اس کی اپنی خود غرضی سے بچالیا گیا، وہی کامیابی کا مستحق ٹھہرا۔
دوسروں کی خود غرضیوں کے برے اثرات سے بچنے کے لیے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے، لیکن زیادہ اور شدید فکر اس کی ہونی چاہیے کہ کہیں خود غرضی کے جراثیم ہمارے وجود میں پنپنے نہ لگیں۔ اس حوالے سے اپنا شدید احتساب کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں آپ کے لیے دوسروں کی خود غرضی سے زیادہ ، خود آپ کی اپنی خود غرضی زیادہ خطرناک اور زیادہ نقصان دہ ہے۔
******
رشتوں اور تعلقات کے لیے شح زہر ہے جب کہ صلح تریاق ہے۔
شح کی وجہ سے رشتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ رشتے خود غرضی اور مفاد پرستی کی زد میں رہتے ہیں۔ ہر کوئی حق سے زیادہ لینا چاہتا ہے اور اپنے اوپر عائد فرض کو فراموش کردیتا ہے۔ جب کہ صلح کے نتیجے میں رشتے پائیدار ہوتے ہیں۔ لوگوں کی توجہ حقوق سے زیادہ فرائض کی طرف رہتی ہے۔
انسانی تعلقات کے جدید ماہرین کے یہاں ہار اور جیت کے حوالے سے چار صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔
ایک یہ کہ میں جیت جاؤں وہ ہار جائے (WIN LOOSE)۔ یہ کھیل کے مقابلوں میں ہو تو بہت اچھا ہوتا ہے اور رشتوں میں ہو تو بہت خراب ہوتا ہے۔
دوسری یہ کہ میں اور وہ دونوں جیت جائیں (WIN WIN)۔ یہ بزنس اور تجارت کا کامیاب فارمولہ ہے۔ رشتوں میں کبھی قابل عمل ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا ہے۔
تیسری یہ کہ وہ جیت جائے اور میں ہار جاؤں (LOOSE WIN)۔ یہ رشتوں کو نباہنے اور ٹوٹتے رشتوں کو سنبھالنے کے لیے اکسیر مانا جاتا ہے۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ دونوں ہار جائیں (LOOSE LOOSE)۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ حسد اور دشمنی میں اندھے ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ سامنے والے کو نقصان پہنچانے کے لیے خود بھی نقصان اٹھانا قبول کرلیتے ہیں۔
اگر قرآنی اصطلاح کو سامنے رکھیں تو شح یہ ہے کہ میں جیت جاؤں دوسرا ہار جائے اور صلح یہ ہے کہ میں ہار جاؤں اور سامنے والے کو جیتنے دوں تاکہ رشتے کو بچالوں۔
شح کا شیوہ اختیار کرنے والے لوگ سماج پر ایک بوجھ ہوتے ہیں جب کہ صلح کا شیوہ اختیار کرنے والے لوگ تعلقات کے محافظ اور سماج کے محسن ہوتے ہیں۔
شح کی بیماری سے نجات پانے کا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی فطرت کی طرف رجوع کرے۔ نفس کی قید سے آزاد ہوکر یہ سوچے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ کا تقاضا کیا ہے۔
اگر انسان اللہ کی طرف سے عطا کردہ انسانی عز وشرف کا شعور رکھتا ہو تو اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ جس انسان کی اللہ نے تکریم فرمائی ہے، شح اور خود غرضی اس کے شایانِ شان ہرگز نہیں ہے، اس کے شایانِ شان تو صلح اور ایثار ہے۔
شح کے نقصانات کا اندازہ بھی شح سے آزاد ہونے میں مددگار ہوگا۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ شح کی بندشیں انسان کو نیکی کے راستے پر چلنے نہیں دیتیں اور اونچے مراتب تک پہنچنے سے محروم کردیتی ہیں۔
حقیقت میں شح ذلت و پستی کا کھڈ ہے اور صلح عزت و بلندی کا مقام ہے۔ اہلِ اسلام کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں شح (خود غرضی) کے بجائے صلح (ایثار) کا راستہ اختیار کریں۔ امت کی ترقی و تمکین کے لیے یہ ناگزیر ہے اور یہ ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ اجتماعی رویوں کا شکوہ کرنے کے بجائے، جب ہر فرد اپنا رویہ بدلے گا تبھی اجتماعی رویوں میں تبدیلی آئے گی۔
شوہر اور بیوی کی چھوٹی اجتماعیت سے لے کر محلے، شہر، ریاست اور ملک کی بڑی اجتماعیتوں کے معاملات تک میں فرد کا مسلسل امتحان ہوتا ہے کہ وہ صلح کا راستہ اختیار کرکے خیر کے خزانوں تک پہنچتا ہے یا شح کا راستہ اختیار کرکے خود کو اور اپنی اجتماعیت کو خیر کے سرچشموں سے محروم کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا راستہ اختیار دوسروں کی دوسروں کے انسان کو سے زیادہ چاہتا ہے یہ ہے کہ کرتا ہے اور صلح ہوتا ہے کہ میں کی طرف ہے اور کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔