سیدنا حنظلہ بن عامر انصاریؓ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راس المنافقین عبداللہ بن ابی کا بہنوئی ابو عامر اگرچہ ایک زاہد مرتاض تھا اور اس نے حق کی تلاش میں گوشہ عزلت اختیار کرلیا تھا۔ لیکن جب خورشید اسلام فاران کی چوٹیوں سے طلوع ہوا اور مدینہ منورہ کے در و دیوار سید المرسلینؐ کی طلعت اقدس سے جگمگائے تو ابو عامر کی عقل پر پتھر پڑگئے اور اس نے اسلام اور داعی اسلام کی دشمنی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ خدا کی شان اسی ابو عامر کے فرزند کو اللہ تعالیٰ نے نور بصیرت عطا کیا اور اس نے کسی تامل کے بغیر دعوت حق پر لبیک کہا اور رحمت عالمؐ کے جاں نثاروں میں شامل ہوگیا۔ جب اس کے باپ کی اسلام دشمنی اور شرانگیزی انتہا کی پہنچ گئی تو اس کی غیرت ایمانی کو تاب ضبط نہ رہی۔ ایک دن بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی یارسول اللہ! اگر اجازت ہو تو اپنے باپ کا سر اتار لاؤں۔
رحمت عالمؐ نے فرمایا: نہیں ہم ان سے برا سلوک نہیں کریں گے۔
ابی عامر کا یہ سعادت مند فرزند جو اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی خاطر اپنے دشمن حق باپ کا قصہ پاک کرنے پر تیار ہوگئے تھے، حضرت حنظلہ تھے۔ جو تاریخ میں تقی اور غسیل الملائکہ کے القاب سے مشہور ہیں۔
حضرت حنظلہ کا تعلق اوس خاندان عمر بن عوف سے تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے حنظلہ بن ابی عامر عمرو بن صیفی بن مالک بن امیہ بن ضبیعہ بن زید بن عوف بن عوف بن مالک بن اوس۔
حنظلہ کا والد ابی عامر قبیلے کا نہایت معزز اور بااثر شخص تھا۔ وہ توریت وانجیل کا عالم اور بعثت پیغمبر آخرالزمانؐ کا قائل تھا اور اکثر دین حنیف کا ذکر کرتا رہتا تھا۔ ایسے ہی خیالات نے اس کو رہبانیت کی طرف مائل کیا اور وہ ٹاٹ کا لباس پہن کر کنج عزلت میں بیٹھ گیا، اور دن رات ریاضت میں مشغول رہنے لگا۔ زمانہ جاہلیت میں اہل مدینہ کے نزدیک وہ ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت رکھتا تھا اور وہ اس کو راہب کے لقب سے پکارتے تھے۔ اس راہب کی بدبختی دیکھیے کہ جب مدینہ میں اسلام کی دعوت کا چرچا ہوا تو اس نے نورحق کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں اور اسلام کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا۔ سرور عالمؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نزول اجلال فرمایا تو ابو عامر حضورؐ پر ایمان لانے کے بجائے آپؐ سے سخت حسد کرنے لگا۔ اس نے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے اور حضورؐ کے خلاف بھڑکانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ خدا کی شان اسی بدبخت کے فرزند کو اللہ تعالیٰ نے شرف ایمان سے بہرہ ور کیا اور ایسی حرارت ایمانی عطا کی کہ وہ اپنے باپ کو قتل کرنے پر تل گئے۔ لیکن رحمت عالمؐ نے اس کی اجازت نہ دی۔ ابو عامر جوش حسد میں مدینہ کی سکونت ترک کرکے مکہ چلا گیا اور غزوہ احد میں مشرکین کے ساتھ مل کر اہل حق سے لڑنے آیا۔ اس کی ہی حق دشمنی تھی جس کی بنا پر حضورؐ نے اس کے لیے فاسق کا لقب تجویز فرمایا۔ اس کے بعد وہ پھر مکہ واپس چلا گیا۔ سن 8 ہجری میں مکہ پر پرچم اسلام بلند ہوا تو وہ ہرقل شاہ روم کے پاس قسطنطیہ چلا گیا اور وہیں سن 9 ہجری سا 10 ہجری میں مرگیا، کہا جاتا ہے کہ ہرقل نے اس کا ترکہ کنانہ بن عبد یا لیل ثقفی کو دے دیا۔
حضرت حنظلہؓ نہایت مخلص مسلمان تھے اور بارگاہ رسالت سے تقی کا خطاب پایا تھا۔ غزوہ بدر میں کسی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔ غزوہ احد کے موقع پر بیوی کے پاس خلوت میں تھے کہ منادی کی آواز سنی جو مسلمانوں کو جہاد کے لیے پکار رہا تھا۔ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے غسل کا خیال ہی نہ رہا اور مسلح ہوکر میدان جنگ میں جاپہنچے۔ اس وقت لڑائی شروع ہوچکی تھی۔ جاتے ہی ان کا سامنا ابو سفیان سپہ سالار قریش سے ہوگیا۔ انہوں نے ابو سفیان کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ان کو اپنی تلوار کی زد میں لے لیا کہ شداد بن اسود لیثی نے آگے بڑھ کر حنظلہ پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ شہید ہو کر فرش خاک پر گر پڑے۔
لڑائی بعد سرور عالمؐ نے میدان جنگ کی طرف نظر کرکے فرمایا: حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں۔
حضرت ابو اسیدی ساعدی سے روایت ہے کہ میں حضور کا ارشاد سن کر حنظلہ کی نعش کے قریب گیا تو دیکھا کہ ان سر سے پانی ٹپک رہا ہے، آپؐ نے حضرت حنظلہ کی اہلیہ کے پاس کسی کو بھیج کر دریافت فرمایا کہ حنظلہ کس حال میں جہاد کے لیے روانہ ہوئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ان کو غسل کی حاجت تھی۔ حضور نے فرمایا: اس لیے اس کو فرشتے غسل دے رہے تھے۔ اسی دن سے وہ غسیل الملائکہ کے لقب سے مشہور ہوگئے۔
حضرت حنظلہ نے اپنے پیچھے ایک ہفت سالہ فرزند چھوڑا۔ جن کا نام عبداللہ تھا۔ انہوں نے واقعہ حرہ سن 23 ہجری میں اپنے بیٹوں کے ہمراہ شہادت پائی۔
قبیلہ اوس کے لیے حضرت حنظلہ کی شخصیت ہمیشہ وجہ افتخار بن گئی۔ بعض اہل سیر نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اوس وخزرج اپنے اپنے فضائل فخریہ بیان کر رہے تھے۔ فریقین نے اس موقع پر اپنے جلیل القدر اصحاب کو پیش کیا تھا۔ اوس نے اپنے اصحاب کا نام لیا ان میں حضرت حنظلہ کا نام سرفہرست تھا۔
طالب ہاشمی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حضرت حنظلہ اور اس کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور یورپی کمیشن کی سلامتی پالیسی کی نائب صدر کایہ کالس اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔
نجی ٹی وی چینل کےمطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کایہ کالس 31 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گی، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
یوکرین تنازع، امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور عالمی توانائی و اقتصادی بحران کے تناظر میں دورہ اہمیت کا حامل ہے۔
مزید پڑھیں۔بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر