بھارت،بدبخت بیٹے نے 80 سالہ باپ کو قتل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جھانسی: بھارت میں بدبخت بیٹے نے ضعیف العمر باپ کو قتل کردیا۔جھانسی میں 80 سالہ مہپت سنگھ ٹھاکر کو اس کے بیٹے پشپیندر سنگھ نے کلہاڑی سے وار کر کے ہلاک کر دیا جو کہ نشے میں تھا۔
حال ہی میں مہیپت سنگھ نے اپنے بیٹے پشپیندر کی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے اپنا پلاٹ بیچ دیا تھا، جس سے اس کی جان بچ گئی۔ پولیس نے ملزم بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔
ضلع کے ا ±لدان تھانہ علاقے کے ہٹی گاو ¿ں کے رہائشی 80 سالہ مہپت سنگھ ٹھاکر ولد پہاڑ سنگھ کی لاش 6 جنوری کو اس کے کھیت میں ایک جھونپڑی میں خون میں لت پت ملی تھی۔
پولیس نے گائوں والوں کی رپورٹ پر ابتدائی طور پر اسے قتل کا شبہ ظاہر کیا اور خاندان کی شکایت کی بنیاد پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
تفتیش کے دوران ملنے والے شواہد کی بنیاد پر پولیس نے بیٹے پشپیندر کو 7 جنوری کو گرفتار کیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جس نے اپنے والد کے قتل کا اعتراف کیا۔
پولیس نے ملزم کے بیٹے کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا تیز دھار ہتھیار بھی برآمد کرکے مزید کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو جیل بھیج دیا۔
اسٹیشن ہائوس آفیسر اولدان جئے پرکاش سنگھ نے بتایا کہ متوفی 80 سالہ مہیپت سنگھ کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹے نے تین سال قبل خودکشی کی تھی، باقی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شادی شدہ ہے۔
متوفی کے پاس 40بیگھہ آبائی اراضی تھی۔ مہیپت نے اپنے بچوں کی شادیوں اور روزی روٹی کے لیے 40 بیگھوں میں سے 32 کو بیچ دیا۔ اب اس کے پاس صرف 8 بیگھہ زمین رہ گئی ۔
مقتول مہیپت کا 38 سالہ بیٹا پشپیندر سنگھ شراب اور جوئے کا عادی تھا۔ وہ اپنے والد مہی پت سے باقاعدگی سے پیسے اور زمین کا مطالبہ کرتا تھا، جس سے باپ بیٹے کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔
6 جنوری کو ایک جھگڑا بھی ہوا، جس کے نتیجے میں پشپیندر نے اپنے والد کو قتل کر دیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔