کرپشن کیس میں سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی و دیگر پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-01-6
لاہور(آن لائن) احتساب عدالت نے کرپشن کیس میں سابق وزیراعلیٰ پرویز الہٰی و دیگر پر فرد جرم عائد کر دی جبکہ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار پر عدالت نے نیب کے گواہوں کو 29 جنوری کو طلب کرلیا۔لاہور کی احتساب عدالت کے جج رانا عارف نے نیب
ریفرنس پر سماعت کی، سابق وزیراعلی پرویز الہٰی سمیت دیگر ملزمان اپنے وکیل عامر سعید راں کے ساتھ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔احتساب عدالت کے جج نے پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر دوران سماعت فرد جرم عائد کی، پرویز الہٰی اور دیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا جس پر عدالت نے نیب کے گواہوں کو 29 جنوری کو طلب کرلیا۔نیب کی جانب سے پرویز الہٰی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف گجرات میں ترقیاتی اسکیموں میں کرپشن کا ریفرنس عدالت میں دائر کر رکھا ہے۔نیب نے دو نئے ملزمان آنے کے بعد ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا، احتساب عدالت نے نیب کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے کارروائی 29 جنوری تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: احتساب عدالت پرویز الہ ی عدالت نے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔