عوام کی جانوں سے کھیلتے تعمیراتی مافیا کو کھلی چھوٹ مل گئی، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی ملوث
پلاٹ نمبر 2/264اور 2/605 پر غیرقانونی منزلیں،شہریوں کا مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

شہر قائد کے پرانے علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیاں ایک بار پھر غیر قانونی اور بے ہنگم تعمیرات کی زد میں ہیں، جہاں قانون کو پامال کرتے ہوئے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ یہ غیرقانونی سرگرمیاں نہ صرف علاقے کی پہلے سے خراب ٹریفک اور انفراسٹرکچر پر اضافی بوجھ ہیں، بلکہ ہزاروں شہریوں کی جانوں کو بھی براہ راست خطرہ بن رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق، لیاقت آباد نمبر 2میں واقع پلاٹ نمبر 2/264اور 2/605پر تعمیرات کی غیرقانونی بلندیوں اور بے ضابطگیوں کی واضح مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ عمارتیں منظور شدہ بلڈنگ پلانز سے تجاوز کرکے کھڑی کی گئی ہیں، جس سے نہ صرف ہوا اور روشنی جیسے بنیادی حقوق مجروح ہو رہے ہیں، بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فرار ہونا بھی ناممکن ہو جائے گا۔زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے طاقتور تعمیراتی مافیا کا ہاتھ ہے ، جسے متعلقہ اداروں کی جانب سے چھوٹ حاصل ہے ۔ ذمہ دار حلقوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کی نگرانی میں یہ مافیا بے خوف ہو کر کام کر رہا ہے ۔ ان پر واضح طور پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کرنے کے بجائے ، تعمیراتی مافیا کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ بار بار متعلقہ اداروں سے رجوع کر چکے ہیں، لیکن ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر فوری طور پر پلاٹ نمبر 2/264اور 2/605سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات پر کارروائی نہ کی گئی اور عمران رضوی جیسے افسران کی نگرانی میں احتساب کا عمل نہ شروع ہوا، تو کسی بڑے سانحے سے انکار ممکن نہیں رہے گا۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات فوری طور پر لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں ہو رہی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں اور مافیا کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرست افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ، تاکہ عوام کا بنیادی حقِ زندگی محفوظ ہو سکے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: لیاقت ا باد

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا. گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے. سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت  کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا. گرفتار دہشت گردوں میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کاروائی میں  دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں. کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے. حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں  دہشتگردوں کی مذموم کاروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن