وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچادو نے اپنا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کو پیش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو نے اپنے نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کردیا ہے۔
ماچادو نے یہ تمغہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کو ایک علامتی اور احترام کے اظہار کے طور پر دیا، جسے صدر نے قبول بھی کرلیا حالانکہ نوبیل انتظامیہ واضح کر چکی ہے کہ اس حقیقی اعزاز کا عنوان منتقل نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:
مذکورہ نوبیل امن انعام ماریا کورینا ماچادو نے 2025 میں جمہوری حقوق اور آمریت کے خلاف جدوجہد کے اعتراف میں حاصل کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ماچادو کے اس اقدام کو ’باہمی احترام کا شاندار اشارہ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی اور سوشل میڈیا پر لکھا کہ ماچادو نے انہیں ان کیے گئے کام کے اعتراف میں نوبیل امن انعام پیش کیا۔
تمغہ سچ مچ ٹرمپ کے پاس؟ نوبیل انسٹی ٹیوٹ کا موقفناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ماچادو اپنے نوبیل امن انعام کو آفیشل طور پر ٹرمپ کو منتقل نہیں کر سکتیں، کیونکہ انعام کا عنوان اور فیصلہ ناقابلِ انتقال ہے۔
لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ اس سنہری تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، چاہے اس کا رسمی عنوان ٹرمپ کے نام نہ بھی ہو۔
’آزادی کے عزم کا اعتراف‘ ماچادو کا مؤقفماریا کورینا ماچادو نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کیا ہے، اور یہ اقدام انہوں نے امریکی صدر کے وینزویلا کی آزادی کے ساتھ وابستہ منفرد عزم کے اعتراف میں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے اس عمل کو وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے ٹرمپ کی حمایت کا مظہر سمجھتی ہیں، حالانکہ صدر ٹرمپ نے انتخابات کے لیے کوئی واضح ٹائم ٹیبل فراہم نہیں کیا۔
اندرونی اور خارجی سیاست کے پیچ و خمصدر ٹرمپ نے ماچادو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وینزویلا کے اندر مکمل حمایت یا احترام نہیں ملا، اور وہ قیادت کے لیے مشکلات کا سامنا کریں گی۔
اسی دوران، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد سیاسی عدم یقینی صورتحال برقرار ہے اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ امریکا کی ممکنہ تعاون کی باتیں کر رہا ہے۔
ماچادو نے وائٹ ہاؤس کی بند دروازوں کے اجلاس کے بعد اپنے حامیوں کا استقبال بھی کیا، جنہوں نے نعرے لگائے اور ٹرمپ کے حق میں جوش و خروش دکھایا۔
مزید پڑھیں:
واشنگٹن کے دورے سے قبل ماریا کورینا ماچادو کو عوام میں اس وقت سے نہیں دیکھا گیا تھا جب وہ گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں، جہاں ان کی بیٹی نے ان کی جانب سے نوبیل امن انعام وصول کیا تھا۔
وہ ناروے میں تقریب کے بعد سامنے آئیں، اس سے قبل وہ وینزویلا میں 11 ماہ تک روپوش رہی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا صدر ٹرمپ ماریا کورینا ماچادو ناروے نکولس مادورو نوبیل انعام وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ماریا کورینا ماچادو ناروے نکولس مادورو نوبیل انعام وینزویلا ماریا کورینا ماچادو نوبیل امن انعام ماچادو نے وائٹ ہاؤس ٹرمپ کو کے لیے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز