Islam Times:
2026-06-02@23:59:53 GMT

ایران مقتدر ہے

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

ایران مقتدر ہے

اسلام ٹائمز:پُرامن احتجاجات اور ہنگامہ آرائی کے درمیان تفریق کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جس طرح اسلامی جمہوریہ ایران شہریوں کے پُرامن اور قانونی احتجاج کے حق کی حمایت اور حفاظت کو اپنا مکمل فریضہ سمجھتا ہے، اسُی طرح عوامی سلامتی کے خلاف خطرات کے سدباب کو بھی اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اب تک مسلح دہشت گردوں سے 1300 سے زائد ہتھیار برآمد کیے جا چکے ہیں۔ لہٰذا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو ان دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔ تحریر: مہران مواحد فر
(قونصل جنرل ایران، لاہور)


گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دنیا اُن دہشت گردانہ اقدامات کی گواه رہی ہے، جو ریاستہائے متحدۂ امریکہ اور صہیونی رجیم کی حمایت سے ایران کے اندر رونما ہوئے۔ یه سب کچھ 28 دسمبر کو معیشتی صورتحال پر کاروباری حضرات کے قانونی اور پُرامن اجتماع اور احتجاج سے شروع ہوا۔ 28 دسمبر سے 30دسمبر تک ہم نے زیادہ تر بازار، اصناف اور معیشتی کارکنان کی سطح پر ایسے احتجاجات دیکھے جو مکمل طور پر پُرامن تھے اور مطالبات کے اظہار کے لیے کیے گئے، اور یہ احتجاجیوں کا فطری حق تھا۔
حکومت نے اُن سے بات چیت کی، احتجاجات کی شدت میں کمی آئی اور تیسرے دن تک عملی طور پر یہ اجتماعات ختم ہو گئے۔
8 سے 10 جنوری تک مغربی حکام اور صہیونی رجیم نے اپنے پیغامات کے ذریعے ایران کے مختلف شہروں میں اُن افراد میں سے بعض کو، جو بیرونِ ملک سے رابطے میں  تھے کو تشدد پر اُکسایا۔ وہ لوگ جنہوں نے ماضی کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران  پر بارہ روزہ مسلط کردہ جنگ میں شکست کا سامنا کیا تھا، نے پہلے سے تیار کردہ مذموم منصوبے اور نقشے کے ساتھ عملی طور پر اس جنگ کو تیرہویں دن، ایران کے شہروں کی سڑکوں پر شروع کیا، اور ہم نے احتجاجیوں کے درمیان مسلح دہشت گردوں کی موجودگی دیکھی جو منظم انداز میں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھانے کے مقصد سے بدامنی والی جگهوں پر سیکورٹی فورسز، پولیس اور عوام کی طرف فائرنگ کر رہے تھے۔

چند دنوں میں تہران اور ایران کے دیگر شہروں کی سڑکوں پر جو کچھ ہوا وہ احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک دہشت گردانہ (دہشت گردی کی) جنگ تھی۔ بدقسمتی سے بهت سارے ہلاک ہونے والے، دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں پیچھے سے نشانہ بنے تھے۔ دہشت گردوں نے داعش کی طرح زخمیوں کو قتل کیا۔ بعض ایرانی پولیس اہلکاروں کے سر قلم کیے، کچھ افراد حتی ایک نرس کو مریضوں کی مدد کی دوران زندہ جلا دیا گیا۔ وسیع پیمانے پر عوامی مقامات، سرکاری عمارتوں اور پولیس کے دفاتر کو آگ لگائی گئی۔ لوگوں کی دکانوں اور گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ بعض شہروں میں تقریباً 200 دکانیں جلا دی گئیں۔ 53 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور 180 ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی۔ صرف تہران میں 26 بینکوں کو اور پورے ایران میں 53 مساجد کو نذرِ آتش کیا گیا۔

پُرامن احتجاجات اور ہنگامہ آرائی کے درمیان تفریق کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جس طرح اسلامی جمہوریہ ایران شہریوں کے پُرامن اور قانونی احتجاج کے حق کی حمایت اور حفاظت کو اپنا مکمل فریضہ سمجھتا ہے، اسُی طرح عوامی سلامتی کے خلاف خطرات کے سدباب کو بھی اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اب تک مسلح دہشت گردوں سے 1300 سے زائد ہتھیار برآمد کیے جا چکے ہیں۔ لہٰذا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو ان دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔ حالیہ دنوں کی ہنگامہ آرائیاں، عوام کے جائز اور قانونی معیشتی مطالبات سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں، اور سوموار 12 جنوری کو ایران کے لاکھوں عوام نے سڑکوں پر آ کر اسرائیل سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے اقدامات کی مذمت کی۔ معیشتی مشکلات میں کمی کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، اس بات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ ان مشکلات کا بڑا حصہ ایران کی قوم کے خلاف مغرب کی مکمل اقتصادی اور مالی جنگ کا نتیجہ ہے، جو غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کی صورت میں مسلط کی گئی ہے۔
یہ پابندیاں براہِ راست انسانی حقوق، معیشت اور ایرانیوں کی روزمرہ زندگی کو نشانہ بناتی اور انسانیت کے خلاف جرم کا واضح مصداق ہیں۔

مغربی ممالک پوری ایک  قوم پر پابندیاں نہیں لگا سکتے اور پھر انسانی حقوق کا پرچم بلند کر کے یہ دعویٰ کریں کہ وہ انہی لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں جنہیں انہوں نے پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں سینکڑوں افراد، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو جلد کی بیماری "ایپیڈرملائزس بولوسا" ( Epidermolysis Bullosa ) میں مبتلا ہیں، پابندیوں کے باعث یورپ میں تیار ہونے والی بعض مخصوص ادویات کی کمی کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مغربی ممالک کو اُن مفلوج کر دینے والی پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے بارے میں جواب دہ ہونا چاہیے جس  نے ایرانی عوام پر بے پناہ دکھ مسلط کیے ہیں۔
اسلامی جمهوریه ایران ایک مقتدر ملک ہونے کے ناطے، چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ان ظالمانه اور غیر قانونی پابندیوں کی مزاحمت اور الله تعالی پر توکل کرتے ہوئے، اسی صلاحیت اور ایرانی عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ اس راه یعنی خودمختاری کے تحفظ کو جاری رکھے گا اور اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کرتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقدامات کی ایران کے کے خلاف

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار