WE News:
2026-07-24@02:20:07 GMT

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے جنوبی حصے میں واقع متمول گنگنم ضلع کے ایک پسماندہ علاقے میں جمعہ کے روز لگنے والی ایک بڑی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 300 فائر فائٹرز نے کارروائی کی۔

سیول میٹروپولیٹن فائر اینڈ ڈیزاسٹر ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم گوریونگ گاؤں کے 47 رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقے میں تقریباً 110 افراد مقیم تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

آگ صبح تقریباً 5 بج کر 10 منٹ پر بھڑکی، جس کے بعد حکام نے فائر الرٹ کو دوسرے بلند ترین درجے تک بڑھا دیا، فائر اہلکاروں کو خدشہ تھا کہ آگ قریبی پہاڑی علاقے تک پھیل سکتی ہے۔

موقع سے لی گئی تصاویر میں علاقے پر سیاہ دھوئیں کا بلند ستون چھایا ہوا نظر آیا، جبکہ بزرگ رہائشی فیس ماسک پہنے علاقہ خالی کر رہے تھے۔

69 سالہ کم اوک-اِم نے بتایا کہ وہ سو رہی تھیں کہ ایک پڑوسی نے فون کر کے آگ لگنے کی خبر دی، جس پر وہ فوراً باہر نکلیں تو دیکھا کہ شعلے پھیل رہے تھے۔

مزید پڑھیں:

’چند سال پہلے سیلاب سب کچھ بہا لے گیا تھا اور اب یوں لگتا ہے کہ آگ باقی سب کچھ بھی لے جائے گی، مجھے فکر ہے کہ اگر میرا گھر تباہ ہو گیا تو میں کہاں رہوں گی۔‘

آگ بجھانے کے لیے مجموعی طور پر 85 فائر ٹرک روانہ کیے گئے، تاہم شہر میں دھند اور باریک گرد کی وجہ سے ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا جا سکا۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ تحفظ یون ہو-جنگ نے حکام کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب عملہ اور سازوسامان متحرک کر کے انسانی جانیں بچانے اور آگ بجھانے پر پوری توجہ دی جائے۔

مزید پڑھیں:

گوریونگ گاؤں، گنگنم جیسے امیر ترین ضلع میں واقع کچی آبادی ہے، جسے بلند رہائشی عمارتوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔

سیول کی شہری منصوبہ بندی کی رپورٹ کے مطابق، اس بستی کا قیام 1970 اور 1980 کی دہائی میں اس وقت عمل میں آیا جب ایشین گیمز اور سیول اولمپکس سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کے باعث بے گھر ہونے والے خاندان بغیر اجازت گنگنم کے کنارے آ کر آباد ہو گئے۔

مزید پڑھیں:

یہ عارضی مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور آتش گیر مواد جیسے پلاسٹک شیٹس، پلائی وُڈ اور اسٹائروفوم سے بنے ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ آگ لگنے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے، 2023 میں لگنے والی ایک آگ کے بعد فائر ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس کمزوری کی نشاندہی کی تھی۔

اگرچہ بیشتر رہائشی ترقیاتی منصوبے کے باعث علاقہ چھوڑ چکے ہیں، تاہم گنگنم ضلعی شہری منصوبہ بندی کے محکمے کے مطابق اب بھی تقریباً 336 گھرانے وہاں مقیم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آتش گیر مواد آتشزدگی اسٹائروفوم ایشین گیمز پلاسٹک جنوبی کوریا سیول سیول اولمپکس فائر الرٹ فائر اینڈ ڈیزاسٹر گنگنم گوریونگ میٹروپولیٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آتش گیر مواد ا تشزدگی اسٹائروفوم ایشین گیمز پلاسٹک جنوبی کوریا سیول فائر الرٹ فائر اینڈ ڈیزاسٹر گوریونگ میٹروپولیٹن کے مطابق

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف