اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی ہو گی۔
 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق طلال چودھری نےکہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، صحت اور تعلیم جیسے سنگین مسائل موجود ہیں، مگر صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے، 26 نومبر، 9 مئی، اس کے بعد آئی ایم ایف کو خط لکھنا، پھر مسلسل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والا بیانیہ، چاہے وہ انڈیا کا ہو یا اسرائیل کا، یا الفاظ کے فرق کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹر (ایکس) اکاؤنٹ سے ہو، یہ سب انتہائی نامناسب اور دل دکھانے والی باتیں ہیں۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: امریکا اور برطانیہ کا ایران کو سخت پیغام

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا، اس سب کے باوجود ہم تحمل سے کام لے رہے ہیں، سابق وزیراعظم مسلسل اپنے ٹوئٹر (ایکس) سے ایسے مؤقف کا اظہار کرتے ہیں جو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ پاکستان مخالف بیانیے جیسا ہوتا ہے، جو انڈیا اور اسرائیل سے ملتا جلتا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ جتنی سہولتیں عمران خان کو دی گئی ہیں، پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو ملی ہوں، ان سے جو بھی ملتا ہے، وہ کہتا ہے کہ وہ ہٹے کٹے ہیں، ورزش کر رہے ہیں، اچھا کھانا کھا رہے ہیں، ڈاکٹر 24 گھنٹے موجود ہے، خدمت گار دن رات ساتھ ہے۔

یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی

ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد لوگ ہیں جو اپنے لیڈر کے لیے افواہیں پھیلاتے ہیں، کبھی کہتے ہیں وہ فوت ہو گئے، کبھی کہتے ہیں جیل میں ہیں ہی نہیں، ہر چند ماہ بعد یہ افواہیں اڑاتے ہیں اور پھر غلط ثابت ہوتی ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا کیا کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو اعتماد میں لیے بغیر فوجی آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے؟ کے جواب میں وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جو کارروائی جاری ہے وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہے، نیشنل ایکشن پلان پہلی بار نواز شریف کے دور میں اور دوسری مرتبہ عمران خان کے دور میں بنا اور تمام صوبے اور سیاسی جماعتیں اس پر متفق تھیں، آج بھی اسی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ آج انگلینڈ کیخلاف کھیلے گی

انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن رہے اور مسائل بات چیت سے حل ہوں، تقریباً 14 لاکھ افغان باشندے مختلف مراحل میں واپس افغانستان بھیجے جا چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔

پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو ان کے ملک واپس بھیجے جانے سے متعلق سوال پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جن طلبہ کے میڈیکل یا آخری سمسٹر کے مسائل تھے، ان کے ویزے میں توسیع کی گئی ہے۔ ویزا ایکسٹینشن قانونی طریقے سے ممکن ہے، لیکن طلبہ کو بھی قانونی طور پر پاکستان میں رہنا چاہئے۔
 

بنگلادیش پریمیئر لیگ ملتوی ہونے کے خدشات ختم

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ