یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
صنعاء: (آئی پی ایس) یمن کے وزیراعظم سالم صالح بن بریک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق یمن کی صدراتی قیادت کی کونسل نے وزیر اعظم سالم صالح بن بریک کا استعفیٰ قبول کر لیا، جس کے بعد وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروپ، جنوبی عبوری کونسل نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
اس اہم ڈویلپمنٹ کے بعد علیحدگی پسند گروپ سعودی عرب کی سرحد کے قریب پہنچ گئے تھے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشن کھلے رکھ دیے، وائٹ ہاؤس کا بڑا بیان اگلی خبرتصادم کا کوئی ارادہ نہیں، جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے: ایرانی مندوب تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے: ایرانی مندوب ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشن کھلے رکھ دیے، وائٹ ہاؤس کا بڑا بیان ایمان مزاری اور انکے شوہر سمندر پر ہیں یا آسمان پر، گرفتار کرکے پیش کریں، عدالت کا حکم امریکا کی دھمکیوں پر پاسداران انقلاب کا منہ توڑ جواب، ہائی الرٹ کا اعلان امریکا کی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں 5 اعلی ایرانی حکام پر پابندی پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا ہے، وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اعظم سالم صالح بن بریک
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔