ایران میں حکومت مخالف مظاہرے،کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وینزویلا میں صدر نکولس میدورا کو بزور اُٹھا لینے کے بعد جناب ٹرمپ کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور اب وہ ایران کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک میں عوام کسی بھی حکومت کو چاہے وہ کتنا ہی اچھا پرفارم کر رہی ہو زیادہ عرصے برداشت نہیں کرتے اور تبدیلی چاہتے ہیں۔1979میں انقلابِ ایران سے پہلے محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کو چوتھائی صدی گزر چکی تھی۔ایران بہت تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔
اس بات میں بہت صداقت ہے کہ اس دور میں ہر کوئی ایک دوسرے کی مخبری کر رہا تھا۔شاہ کی بدنامِ زمانہ انٹیلی جنس ایجنسی اور پولیس کی کارستانیوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں تھا لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ رضا شاہ پہلوی کے دور میں عوام خوشحال اور ملک کا وقار عروج پر تھا۔مغربی حکومتیں شاہ کے آگے بچھی جاتی تھیں۔ایران کی معیشت مضبوط تھی۔ایرانی افواج بہترین تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماڈرن مغربی مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو رہی تھیں۔البتہ رضا شاہ پہلوی شاید یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ ایرانی عوام بہت مذہبی ہیں اور وہ اپنی مسلکی تعلیم کی بدولت مذہبی علماء کے بہت قریب ہیں۔
رضا شاہ پہلوی جب اپنے اقتدار کے عروج پر تھا تو علماء کے ساتھ مخاصمت کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی کشتی بھنور میں پھنس گئی۔ایرانی عوام نے اپنے محبوب رہنما اورعالمِ دین جناب خمینی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے شاہ کو چلتا کیا۔شاہ کی رخصتی کے بعد ایران میں علماء برسرِ اقتدار آئے اور ولایتِ فقیہ کا نظام لاگو ہو گیا۔
انقلابِ ایران کے ابتدائی عرصے میں ہی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی سفارت خانہ تہران پر قبضہ کر کے امریکی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔یہ مسئلہ کچھ عرصہ چلتا رہا جس کی وجہ سے ایران اور امریکا میں شدید ترین تلخی ہو گئی جس کے نتیجے میں ایران پر پابندیاں لگنی شروع ہوئیں۔روز افزوں ترقی کرتا ایران امریکی اور عالمی پابندیوں کی زد میں آ کر اڑان بھول گیا اور ترقی رک گئی۔
ایرانی مذہبی حکومت نے معاملات کو سلجھانے کی بجائے ایک طرف تو مزاحمت کی راہ اپنائی اور دوسری طرف اپنے اڑوس پڑوس مسلمان ممالک میں پراکسی تنظیمیں پیدا کر کے انقلابِ ایران کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ ظاہر ہے اس سے پڑوسی ممالک میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور وہ ایران سے چوکنا و دور ہو گئے۔پابندیوں کی بدولت ایرانی معیشت شدید دباؤ میں آئی۔اب ایران اپنا تیل نہیں بیچ سکتا۔اپنی پروڈکٹس ایکسپورٹ نہیں کر سکتا۔ایرانی بنک بین الاقوامی بنکاری نظام سے باہر ہیں اس لیے کوئی مالیاتی ٹرانزکشن نہیں ہو سکتی۔ایرانی سفارت خانوں کے پاس ضروری خریداری یا ادائیگی کے لیے فارن کرنسی نہیں ہوتی۔
دسمبر 2025 میں ایرانی تومان کی قدر اتنی گر گئی کہ یقین کرنا مشکل ہے کہ آیا ایسا بھی ہوتا ہے۔ ایران کے اندر پچھلے کچھ سالوں سے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے بہت کامیابی سے پنجے گاڑے ہیں ۔ظاہر ہے اسے ایرانی عوام اور حکومتی اہلکاروں میں اپنے لیے ایجنٹ مل رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاسی قیادت کی حکومت چلانے کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ملک میں جاری شدید مظاہروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے چند دن پہلے ایک بیان جاری کیا جو خود حکومت کی اہلیت کا بھانڈا پھوڑ رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کے حالیہ واقعات اگرچہ ابتدا میں معاشی مطالبات اور احتجاج سے شروع ہوئے تھے لیکن اب اسرائیلی رہنمائی اور منصوبہ بندی کے تحت یہ احتجاج ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش میں بدل گیا ہے۔یاد رہے کہ ایران میں حالیہ مظاہرے تہران کے مرکزی تجارتی و کمرشل علاقے سے بزنس مینوں نے شروع کیے۔ایرانی کرنسی کی قدر میں ہونے والی شدید کمی پر عوامی غم و غصے نے ان مظاہروں کو جنم دیا اور جلد ہی یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا۔بیرونی عناصر کی مدد سے مظاہرین حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں لیکن پاپولر متبادل قیادت نظر نہیں آ رہی۔شاہ کی جگہ جناب خمینی کی قیادت موجود تھی لیکن علی خامنہ ای کی جگہ شاہ کا بیٹا متبادل قائد نہیں بن سکتا۔
ایران میں ہونے والے مظاہرے ابتدا میں اقتصادی نعروں اور معیشت کی بہتری کے مطالبے سے شروع ہوئے لیکن بعد میں ان مظاہروں کو بیرونی حمایت یافتہ عناصر نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شرح مبادلہ میں شدید اتار چڑھاؤ،لین دین کے اخراجات میں اضافہ اور قیمتوں میں شدید عدم استحکام نے کاروباری حالات پر بہت منفی اثر ڈالا۔سپریم لیڈر جناب خامنہ ای نے بھی اقتصادی مشکلات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج کو جائز قرار دیا۔انھوں نے ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ کو بھی تبدیل کیا۔
امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ پمپیو نے ایک بیان میں ایران میں جاری مظاہروں کے دوران اسرائیلی ایجنسی موساد کے ایجنٹوں کے براہِ راست ملوث ہونے کو سراہا۔مظاہروں کے دوران بیرونی ہاتھ کے شواہد میں مساجد کو آگ لگانا اور کچھ مظاہرین کے ہاتھوں میں اسلحے کا آنا ہے۔ایرانی معاشرے میں مساجد کو آگ نہیں لگائی جاتی اور سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں بھی اسلحہ نہیں ہو سکتا۔اسلحہ اُٹھائے مظاہرین نے سیکیورٹی اہلکاروں کو سیدھا نشانہ بنایا،یہ ایک بہت منفی ڈویلپمنٹ ہے۔ایران کے تین سرحدی علاقوں میں علیحدگی کی تحریک ہے لیکن تہران جیسے شہر میں مظاہرین کے ہاتھوں میں مہلک اسلحہ بہت انہونی بات ہے جس پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سابق امریکی صدر اوباما کے پہلے دور میں بھی ایران میں گرین تحریک کے تحت بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے امریکا نے ایرانی حکومت گرانے کی مقدور بھر کوشش کی۔صدر اوباما نے تو ایرانی عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے ایرانی عوام کو ابھارا۔گرین تحریک کے بعد بھی کم از کم تین مرتبہ بڑے پیمانے پر مظاہرے اور فسادات ہو چکے ہیں جن پر قابو پا لیا گیا،سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حالیہ مظاہروں کے ذریعے ایرانی حکومت تبدیل ہو سکے گی۔امریکا ایک بہت طاقتور فوجی قوت ہے اور ایران کے آس پاس اس کے فوجی اڈے بھی ہیں۔امریکا اور اسرائیل مل کر پہلے بھی ایران کے خلاف جنگی اقدامات کر چکے ہیں اور اب بھی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ امریکا و اسرائیل ایران میں حکومت تبدیلی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رضا شاہ پہلوی ایرانی عوام ایران میں ایران کے ہے کہ ا
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی