ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کرکٹرز بھی تاحال بھارتی ویزے سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا انعقاد آئی سی سی سمیت تمام شریک ممالک کے لیے درد سر بن گیا ہے۔
پاکستان ٹیم ہائبرڈ ماڈل معاہدے کے تحت پہلے ہی اپنے تمام میچز بھارت کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گی۔
دوسری جانب بنگلادیشی ٹیم نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت جاکر کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔
ان حالات کے برعکس بھارت خود کئی ٹیموں کو پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزا دینے میں تاخیری حربے استعامل کررہا ہے۔
امریکا کے علی خان سمیت چار پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھارتی ویزا نہ دیے جانے کی تصدیق کے بعد اب انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھی ویزا نہ ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عادل رشید اور ریحان احمد کو پاکستان سے تعلق ہونے کے باعث ابھی تک بھارتی ویزا جاری نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث دونوں کھلاڑیوں کا اس ہفتے کے آخر میں سری لنکا کے خلاف 6 وارم اپ میچز کی سیریز کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ کے ساتھ سفر کرنے کا امکان نہیں ہے۔
The delay means both players are unlikely to travel to Sri Lanka with the rest of the squad this weekend ❌ pic.
یاد رہے کہ دو سال قبل شعیب بشیر انگلینڈ کے دورہ بھارت کے ابتدائی ٹیسٹ میں شرکت نہیں کر سکے تھے جس کے بعد انہیں ویزا کا عمل مکمل کرنے کے لیے لندن واپس جانا پڑا تھا، جبکہ ثاقب محمود کو بھی ویزا سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی نژاد انگلینڈ کے کے لیے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔