بنگلادیشی کھلاڑیوں کے بائیکاٹ کے باعث بی پی ایل کا میچ منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں چٹوگرام رائلز اور نوخالی ایکسپریس کے درمیان میچ مقررہ وقت گزر جانے کے باجود شروع نہیں ہوسکا ہے۔

دونوں ٹیمیں ابھی تک اسٹیڈیم نہیں پہنچی ہیں۔ یہ صورتحال ملک بھر میں کرکٹ کی تمام سرگرمیوں کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

The Bangladesh cricket crisis deepens: The first BPL match today - between Chattogram Royals and Noakhali Express - has been delayed after both teams did not arrive at the venue for the toss

Follow the story: https://t.

co/mzRjJeiasB pic.twitter.com/OjPEaXB2bH

مزید پڑھیں

ورلڈکپ تنازعہ: بنگلادیش اور بھارت کا معاملہ مزید بگڑنے کا خدشہ

— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 15, 2026

گزشتہ روز بنگلادیشی کھلاڑیوں نے کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر نجم الاسلام کے تمیم اقبال کے خلاف بیان کے بعد بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

نجم الاسلام نے بنگلادیشی ٹیم کے بھارت جانے سے متعلق تمیم اقبال کے بیان پر ردعمل میں انہیں ’بھارتی ایجنٹ‘ کہا تھا جس پر کھلاڑیوں نے ان سے استعفیٰ کے مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ بائیکاٹ کے باعث نہ صرف یہ میچ متاثر ہوا ہے بلکہ آئندہ شیڈول میچز پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا، تاہم ذرائع کے مطابق معاملے کے حل کے لیے بی سی بی اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان