Express News:
2026-07-24@01:11:37 GMT

جلے بھی جلائے بھی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

ہم سبھی جانتے ہیں اس چیز کو… بلکہ اس جذبے کو جو کہ دوسرے کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے اور کرنے والے کو بھی نہ صرف جلاتا ہے بلکہ اسے یوں اندر ہی اندر کھاتا ہے جیسے لکڑی کو دیمک- انسانی جذبات میں غصے اور نفرت کے جذبات کو عموما ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ دو جذبات بھی عموما اسی جذبے کے بطن سے جنم لیتے ہیں جسے حسد کا جذبہ کہا جاتا ہے-

حسد سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی شخص کے لیے تمنا رکھیں کہ جو کچھ اسے عطا ہوا ہے، جو کچھ اس کی صلاحیتیں ہیں، انھیں زوال آجائے- اس کی کامیابی اور خوشی سے ہمارے دل کو تکلیف اور اس کی ناکامی اور تکلیف سے ہمیں خوشی محسوس ہو- اس کے لیے دل میں کینہ اور بغض ہو اور نہ صر ف دل میں سوچیں بلکہ اس کے بارے میں لوگوں سے بات بھی کریں کہ اسے یہ کامیابی کیوں ملی ہے… وہ تو اس کے قابل ہی نہیں ہے۔

میں اگر ڈاکٹر نہیں ہوں، استاد نہیں ہوں ، انجینئر نہیں، سیاست دان بھی نہیں اور عالم بھی نہیں مگر کسی ڈاکٹر، استاد، انجینئر، سیاست دان یا عالم کو کوئی کامیابی ملے، دوسرے اسے سراہیں اور اسے اپنی قابلیت کی بنا پر کوئی اہم عہدہ ملے، مراعات حاصل ہوں تو مجھے خواہ مخواہ میں تکلیف ہو کہ یہ سب اسے کیوں ملا… یہ سوچ کیوں نہیں آتی کہ اسی کو ملتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، جس نے اس کے لیے محنت کی ہوتی ہے اور جس کی فیلڈ ہوتی ہے-

کوئی مجھ سے پوچھے کہ کسی خلا باز نے کوئی کامیابی حاصل کر لی تو اس نے اس کے لیے محنت کی اور کام کیا، مجھے گھر میں صوفے پر بیٹھ کر ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے تو یہ کامیابی نہیں مل سکتی نہ ہی کسی اور شخص کے نصیب کا مجھے مل سکتا ہے- مجھے تو وہی ملے گا جو میرے نصیب میں لکھا ہے، جس کے لیے میں نے کام کیا ہے اور جو میری محنت کے نتیجے میں اللہ تعالی کا کرم ہے، اگر مجھے کسی اور کو حاصل ہونے والی خوشیوں سے تکلیف محسوس ہوتی ہے تو مجھے سوچنا چاہیے کہ اگر اسے نہ ملتا تو کیا مجھے مل جاتا؟

اگر آپ ایک ہی عمر، جماعت، کلاس، محکمے اور ایک جیسی قابلیت کے دو یا دو سے زیادہ لوگ ہیں تو اس میں امکان ہوتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کا مقابلہ ہوا اور اس میں وہ لوگ کامیاب ہوجائیں جو کسی قابلیت میں آپ سے بڑھ کر ہیں، وہاں حسد محسوس ہونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ ظاہر ہے وہ اور آپ دوبدو مقابلے پر تھے اور آپ کو اس کے مقابلے میں ہار ہوئی- وہاں آپ کے دل میں حسد پیداہونا justifiedہے مگر جہاں کوئی مقابلہ ہو نہ واسطہ نہ تعلق… وہاں حسد بالکل بے جا اور ایک بیماری ہے - ہم میں سے جو دوسروں سے دنیاوی یا دینی، کسی بھی لحاظ سے بہتر ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کرے اور بالخصوص دوسروں کے سامنے اس کا تذکرہ نہ کرے -

اگر آپ کو لگے کہ کسی کو کسی بھی معاملے میںآپ سے خار ہے، خاندانی، کاروباری، دفتری یا محلے داری کا تو اسے اپنے گھر سے اور گھر کے حالات سے دور رکھیں- کوشش کریں کہ وہ آپ کے گھر نہ آئے، آپ کے گھر میں وہ سہولتیں نہ دیکھے اور نہ ہی آپ کے گھر کے حالات کو جانے- آپ کی دولت، زیور، لباس، صلاحیتیں ، گاڑیاں، آپ کی فرمانبردار اولاد، آپ زوجین کا آپسیںحسن سلوک، آپ کے گھر کے کھانے، ملازمین، سلیقہ اور اخلاق- یہ سب دوسروں کو حسد میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں- جب تک یہ سب دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہے آپ ان کی سوچ کے فتنے اور حسد سے محفوظ رہتے ہیں، اپنے بچوں کو بھی بتائیں کہ اپنے گھر کے بارے میں نہ کسی کو بتائیں اور نہ دکھائیں۔

کوئی آپ کو گزند نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ وہ آپ کے اور آپ کے گھر کے بارے میں تمام تفصیلات کو جانتا نہ ہو- آپ کے منصوبے تبھی ناکام ہو سکتے ہیں جب تک آپ انھیں قبل از وقت دوسروں کے ساتھ شئیر نہ کریں، آپ کے مستقبل کے بارے میں منصوبے آپ کا اپنا راز ہیں، انھیں آپ خود ہی دوسروں کو بتاتے اور انھیں ان منصوبوں کو مسمار کرنے کا موقع دیتے ہیںیا آپ کو جان بوجھ کر ایسا غلط مشورہ دیں گے کہ جس سے نقصان کا احتمال ہو، اس سے ان کی حس حسد کو تسکین ملے گی۔

آپ کے خاندان کے بارے میں صرف وہ لوگ سازش کریں گے جو آپ کے ہاں کثرت سے آتے ہیں، جن پر آپ پورا اعتماد کرتے ہیں اور انھیں اپنے بچوں اور گھروں کے بارے میں معلومات دیتے ہیں- مثا ل کے طورپر آپ نے انھیں بتایا کہ آپ کا فلاں بچہ آپ کی بات نہیں مان رہا ہے اور وہ کام کرنے کی ضد کررہا ہے جو اس کے حق میں نقصان دہ ہے- وہ شخص حاسد ہے تو وہ آپ کے اور آپ کے بچے کے درمیان اختلاف کو ہوا دے گا تا کہ آپ دونوں کے بیچ خلیج پیدا ہو جائے- جس کام سے آپ اپنے بچے کومنع کررہے ہیں وہ اسے وہی کام کرنے پر مجبور کرے گا تا کہ آپ کے بچے کو تقصان ہو اور آپ کو اس کا دکھ ہو، اس کے جذبات کو سکون مل جائے گا۔

کوئی شخص اس وقت آپ کی کمزوریوں کو نہیںجان سکتا جب تک کہ آپ اسے خود نہ بتائیں یا وہ آپ کے بہت قریب نہ رہا ہو- قطع تعلقی نہ کریں مگر ہر رشتے، تعلق اور دوستی کی ایک حد ہوتی ہے- بسا اوقات بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ آپ کا ایسا راز ہیں جس کا کسی اور کو معلوم ہو جانا آپ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، وہ راز آپ کا قیدی ہے اور جب آپ کسی اور کو بتا دیتے ہیں تو آپ اپنے راز کے قیدی بن جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بارے میں آپ کے گھر وہ آپ کے ہوتی ہے کسی اور گھر کے کے لیے ہے اور اور آپ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف