امریکا کی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں 5 اعلی ایرانی حکام پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
امریکا کی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں 5 اعلی ایرانی حکام پر پابندی WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکا نے حالیہ فسادات اور ہنگائی آرائی کے دوران مظاہرین پر تشدد کے الزام میں علی لاریجانی سمیت 5 اعلی حکام پر پابندی عائد کردی اور خبردار کیا ہے کہ ایرانی قیادت کے فنڈز کا سراغ لگا رہے ہیں جو دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاں میں ملوث 5 حکام پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں اور انہیں کریک ڈان براہ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔
امریکی پابندی کی زد میں آنے والوں میں سیکریٹری سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر سیکیورٹی کمانڈرز محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی پابندیوں میں ایران کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کے 18 افراد اور ادارے بھی شامل ہیں، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور سنگاپور میں قائم فرنٹ کمپنیاں بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ مذکورہ افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شیڈوبینکنگ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی غیر ملکی منڈیوں میں فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں ملوث تھے۔
امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ امریکا کا ایران کے رہنماں کو واضح پیغام ہے کہ امریکی وزارت خزانہ جانتا ہے جیسا کہ ڈوبتے ہوئے جہاز سے بھاگتے چوہے، آپ ایرانی خاندانوں سے لوٹی گئی رقم گھبراہٹ میں دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یقین رکھیں ہم اس کا اور تمہارا بھی سراغ لگائیں گے لیکن اس کے لیے تھوڑا وقت ہے، اگر ہمارے ساتھ شریک ہونے کا انتخاب کیا تو جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا ہنگامہ آرائی روک کر ایرانی عوامی کے ساتھ کھڑے ہوں۔
امریکی سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ امریکا مکمل طور پر ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ کھڑا ہے اور محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کے ظالمانہ انسانی حقوق کی پامالی کے پس پردہ عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔ واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد یہ پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پہلا اقدام ہے جو ایران پر دبا برقرار رکھنے کے لیے ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف چار روزہ ریفرنڈم کا آغاز پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا ہے، وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج ایران میں ہنگامہ آرائی، سرغنہ خاتون کا اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست رابطوں کا اعتراف سیکیورٹی فورسز کی بنوں اور کرم میں کارروائیاں، 13 دہشت گرد ہلاک بحر فیز سیون :چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی طرف سے بھتہ وصولی کا انکشاف ڈائریکٹر ڈریپ محمد اختر عباس کو اضافی ذمہ داریاں مل گئیں،سیکرٹری فارمیسی کونسل تعینات،نوٹیفیکشن سب نیوز پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کرکٹرز بھی تاحال بھارتی ویزے سے محرومCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حکام پر پابندی مظاہرین پر امریکا کی شامل ہیں کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔