پاکستان روس سفارتی تعلقات میں اہم مرحلہ، نئے سفیر کی اسناد پیش
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کریملن پیلس میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دیں۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ پاکستانی سفیر نے صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات صدر پیوٹن تک پہنچائے۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان کو روس کا قریبی شراکت دار قرار دیتے ہوئے دو طرفہ تعاون میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، سفارت کاری، تعلیم، زراعت، صحت، صنعت، ریلوے اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
فیصل نیاز ترمذی نے 26 اکتوبر 2025 کو ماسکو میں بطور پاکستانی سفیر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ ان کی ترجیحات میں توانائی، تجارت، رابطہ کاری، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ کے ساتھ ساتھ روس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح شامل ہے۔
واضح رہے کہ فیصل نیاز ترمذی ایک سینئر کیریئر سفارتکار ہیں، جو اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور کرغزستان میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سفارتی خدمات پر انہیں اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔