بھارت: سینئر ریلوے ملازمین کو دیے گئے ’چاندی‘ کے تمغے جعلی ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بھارت میں ریلوے کے ریٹائرڈ ملازمین کو اعزاز کے طور پر دیے گئے گولڈ پلیٹڈ چاندی کے تمغے جعلی نکلے۔ لیبارٹری میں کروائی گئی جانچ میں انکشاف ہوا کہ یہ تمغے تقریباً مکمل طور پر تانبے کے بنے تھے جن میں چاندی کی مقدار محض 0.23 فیصد تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تمغے ویسٹ سینٹرل ریلوے کی جانب سے ریٹائر ہونے والے سینئر ملازمین کو دیے گئے تھے جنہیں 99 فیصد چاندی کا بتایا گیا تھا۔
بھارتی ریلوے حکام کے مطابق تمغے جنوری 2023ء میں اِندور کی ایک نجی کمپنی سے خریدے گئے تھے۔ ہر 20 گرام کے تمغے کی قیمت 2,000 سے 2,200 روپے ادا کی گئی۔ مجموعی طور پر 3 ہزار 631 تمغے فراہم کیے گئے تھے۔
شکایت سامنے آنے کے بعد ریلوے ویجیلنس نے نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ برائے ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز سے منظور شدہ اور متعدد سرکاری لیبارٹریز میں تمغوں کی جانچ کروائی جس میں جعلسازی کی تصدیق ہوئی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سپلائر کمپنی کو بلیک لسٹ اور بھوپال میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
بھارتی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ معاملہ صرف مالی نقصان کا نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازمین کی عزت اور اعتماد سے جڑا ہوا ہے، باقی تمغے ضبط کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔