مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 13 فروری تک توسیع
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
لاہور:
انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 13 فروری تک توسیع کردی۔
کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت کے جج ارشد جاوید اور منظر علی گل نے سماعت کی، سابق وفاقی وزیر اسد عمر، شاہ محمود قریشی، جمشید چیمہ، مسرت جمشید، شیخ امتیاز سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات بھی ہوئی۔
علیمہ خان ،عظمیٰ خان، اعظم سواتی اور فواد چوہدری نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 13 فروری تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کیخلاف مسلم لیگ (ن) کا آفس جلانے اور کلمہ چوک پر کینٹیر جلانے سمیت نو مئی کے چھ مقدمات درج ہیں۔
مذکورہ مقدمات میں جے آئی ٹی کے تفتیشی افسران نے تفتیشی رپورٹ پیش کر رکھی ہے جس میں علیمہ خان اور عظمی خان سمیت تمام ملزمان گناہگار قرار دیئے گئے ہیں۔
اعظم سواتی، جمشید اقبال چیمہ٫،مسرت جمشید چیمہ، حافظ فرحت عباس، بلال اعجاز، رائے حسن نواز، علی امتیاز وڑائچ، محمد احمد چٹھہ، محمد اشرف سوہنا، رائے مرتضیٰ اقبال سمیت دیگر ملزمان کے نام مقدمات میں شامل ہیں۔
دریں اثنا جناح ہاؤس چوک اور عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواستوں پر عدالت نے ملزمان کے وکلاء سے دلائل طلب کر لیے۔
عدالت نے پولیس کو مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں پر مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کر دی، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقدمات میں عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔