بھارتی عدالت کا فیصلہ، آسیہ اندرابی کو قصوروار قرار دے دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی حریت پسند قیادت کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی عدالت نے معروف حریت پسند خاتون رہنما آسیہ اندرابی کو ایک سیاسی مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔
اسی مقدمے میں حریت رہنماؤں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا، جبکہ تینوں رہنماؤں کو سزائیں 17 جنوری کو سنائی جائیں گی۔ یہ مقدمہ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت میں چلایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق آسیہ اندرابی کو اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ 1987 میں خواتین کی قیادت میں قائم آزادی پسند تنظیم دخترانِ ملت کی بانی رہنما ہیں۔ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین بھی گزشتہ تین دہائیوں سے بھارت میں من گھڑت مقدمات کے تحت قید ہیں۔ حریت حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے جابرانہ اقدامات کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو کمزور نہیں کر سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آسیہ اندرابی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔