انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا ایک وفد جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کا امکان ہے، جہاں وہ آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شرکت سے متعلق معاملات پر براہِ راست بات چیت کرے گا۔ یہ میگا ایونٹ 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش کی وزارتِ کھیل اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ قومی ٹیم بھارت کا سفر نہیں کرے گی اور اپنے تمام میچز صرف سری لنکا میں کھیلے گی۔

حکومت اور کرکٹ بورڈ کا دوٹوک مؤقف

آئی سی سی وفد کی ممکنہ آمد کی تصدیق کھیلوں کے مشیر آصف نذرالاسلام نے فارن سروس اکیڈمی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں شرکت کا خواہاں ہے، تاہم میچز کے مقام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا

آصف نذرالاسلام نے کہا کہ ’تازہ معلومات کے مطابق بی سی بی کے صدر امین الاسلام بلبل نے مجھے بتایا ہے کہ آئی سی سی کی ٹیم بات چیت کے لیے بنگلہ دیش آ سکتی ہے۔ ہمارے مؤقف میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ ہم خاص طور پر سری لنکا میں ورلڈ کپ کھیلنے کے خواہاں ہیں اور میرا پختہ یقین ہے کہ اس کا انتظام ناممکن نہیں۔‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھلاڑیوں کی سکیورٹی اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔

آئی سی سی کی درخواست، بی سی بی کا انکار

اس سے قبل آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پر زور دیا تھا کہ وہ بھارت سے میچز منتقل کرنے کے مطالبے پر نظرِ ثانی کرے، تاہم بی سی بی نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اپنا مؤقف نرم کرنے سے انکار کر دیا۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا

بی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ہچکچاہٹ کے باوجود بورڈ کا مؤقف برقرار ہے، البتہ دونوں فریق ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

شیڈول میں تبدیلی مشکل قرار

بی سی بی نے متعدد بار آئی سی سی کو خطوط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اس کے میچز بھارت کے بجائے کسی اور مقام پر منتقل کیے جائیں، تاہم چونکہ 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کا شیڈول پہلے ہی جاری ہو چکا ہے، اس لیے آئی سی سی کی جانب سے پروگرام میں تبدیلی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاکستان، بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی کے لیے تیار

بی سی بی کے مطابق ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں آئی سی سی نے شیڈول کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف تبدیل کرنے کی درخواست کی، لیکن بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اپنے فیصلے پر قائم ہے۔

کھلاڑیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں: بی سی بی

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بی سی بی اپنے کھلاڑیوں، آفیشلز اور عملے کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس معاملے پر آئی سی سی کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطے میں رہے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بھارت ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ سری لنکا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بھارت ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ سری لنکا بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سری لنکا میں آئی سی سی کی بات چیت ورلڈ کپ کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی