اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں نیا ٹرانسلیشن ٹول متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایک جدید فیچر متعارف کروایا ہے جو صارفین کو بہت پسند آئے گا۔
اس نئے فیچر کے تحت چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ نامی ٹول متعارف کیا گیا ہے، جو ٹیکسٹ، آڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر میں موجود تحریروں کو اردو سمیت 50 سے زائد زبانوں میں چند سیکنڈوں میں ترجمہ کر سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس ٹول میں زبان کی خودکار شناخت (Auto Detection) کا فنکشن بھی شامل ہے اور یہ مختلف سیاق و سباق اور انداز کے مطابق ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک کلک پر یہ بزنس یا تعلیمی تحریروں کے لیے ہموار اور موزوں ترجمہ فراہم کر سکتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ محاورات اور اصطلاحات کو بھی سمجھ سکتا ہے، اور گوگل ٹرانسلیٹ جیسی دیگر ٹولز کو مقابلہ فراہم کرے گا۔ ویب ورژن میں آڈیو ریکارڈنگ فیچر ابھی دستیاب نہیں، مگر موبائل ویب پر یہ ممکن ہے۔
ابھی یہ ٹول ویب پیج کی شکل میں دستیاب ہے، آف لائن یا رئیل ٹائم ترجمے کی سہولت فراہم نہیں کرتا، تاہم کمپنی کے مطابق مستقبل میں اسے مزید بہتر بنا کر باقاعدہ متعارف کرایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔