وزیرخزانہ سے ورلڈ بنگ کے کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات: پاکستان میں معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار میں بدلنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ورلڈ بنک کنٹری ڈائریکٹر نے ملاقات کی پاکستان میں معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور روزگار میں بدلنے پر اتفاق کیا۔ نجی سرمایہ کاری میں تیزی لانے کیلئے جامع فریم ورک پر غور کیا۔ ٹیکس محصولات اور سرکاری اداروں کی اصلاحات بارے پیش رفت کا جائزہ لیا، ورلڈ بنک نے نتائج پر مبنی اصلاحاتی حکمت عملی کی تجویز دی، حکومت نے ٹیرف اصلاحات ایس کو ای گورننس اور شفافیت پر زور دیا کیپٹل مارکیٹس کی مضبوطی اور طویل المدتی فنانسنگ پر اتفاق کیا، روزگار کے فروغ کیلئے سکلز ڈویلپمنٹ کلیدی ستون قرار دیا۔ آئی ٹی ہیلتھ نرسنگ اور کنسٹرکشن میں مہارتوں کی تیاری پر زور دیا۔ ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ اور اوورسز روزگار کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ ورلڈ بنک کی پالیسی بیسڈ گارنٹیز کے استعمال پر بریفنگ دی۔ موسمیاتی فنانس اور صوبوں سے تعاون پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاکستان اور ورلڈ بنک نے تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔