مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے، شاہ محمود قریشی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
(ویب ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے، گفتگو سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے، وہ بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری اور میں ایک پارٹی میں رہے ہیں، میں ہسپتال میں تھا تو وہ عیادت کے لیے آگئے، اب گھر آئے مہمان کو کیا کہوں کہ کیوں ملنے آئے ہو۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے، ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے کہا کہ ایران کے بارڈر پر فی الحال صورتحال کنٹرول میں ہے، ہم نے بھارت کو جنگ میں ہرایا، اللّٰہ نے ہمیں عزت دی، ابھی تک بھارت سے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔