14 لاکھ لنکس بند، 94 فیصد بلاکنگ ٹک ٹاک پر: پی ٹی اے کی چونکا دینے والی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نےکریک ڈاون سےمتعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروادی جس کے مطابق ملک بھر میں بیہودگی اور اخلاقیات کے خلاف مواد سرفہرست ہیں۔رپورٹ کے مطابق غیرقانونی ڈیجیٹل مواد پھیلانے پرایک ملین سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کیے گئے جن میں فیس بک اور ٹک ٹاک پر غیرقانونی اور نامناسب مواد شیئرکرنے پرسب سےزیادہ بلاکنگ کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے فیس بک کے 2 لاکھ 29 ہزار لنکس چیک کرکے رپورٹ کیے اور ایک لاکھ97 ہزار بلاک ہوئے، انسٹاگرام پر43 ہزار یو آر ایل چیک کیے گئے جس کے بعد 38 ہزار بند کردیے گئے، اس کا بلاکنگ ریٹ 87 فیصد رہا۔رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد غیرقانونی مواد کےلنکس چیک کیےگئے، ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد ٹک ٹاک ویڈیوز کے لنکس بند کیے گئے، ٹک ٹاک پر سب سے سخت کریک ڈاؤن ہوا اور 94 فیصد مواد بلاک ہوا ۔اسی طرح یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں 64 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیےگئے، ایکس کے ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد لنکس چیک کیے گئے جن میں سے70 ہزار 800 لنکس بلاک کیےگئے۔رپورٹ کے مطابق ایکس پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہا جہاں صرف 62 فیصد مواد بلاک کیا جاسکا جب کہ دیگر مختلف پلیٹ فارمز پر8 لاکھ 98 ہزار لنکس کی چیکنگ کی گئی جس میں سے 8 لاکھ 91 ہزار لنکس بلاک کردیے گئے۔رپورٹ کے مطابق توہین عدالت، بیہودگی، مذہب کے خلاف، پراکسی اور نفرت انگیز مواد کے14 لاکھ سے زائد لنکس اور یو آر ایل بند کیے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہےکہ بیہودگی اور اخلاقیات کے خلاف موادسرفہرست رہا، 10 لاکھ 61 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے، ریاست اور دفاع پاکستان کے خلاف ایک لاکھ 48 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، مذہب کے خلاف مواد پر ایک لاکھ 9 ہزار سے زائد لنکس بند کیے گئے جب کہ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔اس کے علاوہ ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر بلاکنگ ریٹ سب سےکم رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق لنکس بلاک کیے بلاک کیے گئے ایک لاکھ کے خلاف ٹک ٹاک
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔