ججز کی کردار کشی: پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 14 لاکھ سے زائد ویب لنکس بلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ غیر قانونی اور نامناسب ڈیجیٹل مواد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں 14 لاکھ سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کر دیے گئے۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی سے متعلق کیس میں پی ٹی اے نے ایک جامع رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ایکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر قانونی مواد کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، جس میں سب سے زیادہ بلاکنگ فیس بک اور ٹک ٹاک پر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سم یا ڈیوائس سے کی جانے والی کسی بھی ایکٹیویٹی کا ذمہ دار براہ راست صارف ہوگا، پی ٹی اے کا انتباہ
فیس بک کے 2 لاکھ 29 ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کے بعد 1 لاکھ 97 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ انسٹاگرام پر 43 ہزار یو آر ایل چیک کیے گئے جن میں سے 38 ہزار بند کر دیے گئے، یوں انسٹاگرام پر بلاکنگ ریٹ 87 فیصد رہا۔
ٹک ٹاک پر سب سے سخت کارروائی دیکھنے میں آئی، جہاں ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد غیر قانونی مواد کے لنکس چیک کیے گئے اور ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد ویڈیوز کے لنکس بلاک کیے گئے۔
پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر بلاکنگ ریٹ 94 فیصد رہا جو تمام پلیٹ فارمز میں سب سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت
یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ کے بعد 64 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ ایکس کے ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد لنکس کی جانچ کے بعد 70 ہزار 800 لنکس بند کیے جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہا جو صرف 62 فیصد تھا۔
پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق دیگر مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر 8 لاکھ 98 ہزار لنکس میں سے 8 لاکھ 91 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔
مزید پڑھیں: حکومت نان پی ٹی اے فونز پر 4 قسم کے کونسے ٹیکس وصول کر رہی ہے؟
مجموعی طور پر توہین عدالت، بیہودگی، مذہب مخالف، پراکسی اور نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 14 لاکھ سے زائد لنکس اور یو آر ایل بند کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیہودگی اور اخلاقیات کے خلاف مواد سرفہرست رہا، جس کے تحت 10 لاکھ 61 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔
اس کے علاوہ ریاست اور دفاع پاکستان کے خلاف مواد پر 1 لاکھ 48 ہزار، مذہب کے خلاف مواد پر 1 لاکھ 9 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔
اسی طرح فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76 ہزار لنکس بند کیے گئے۔ ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر بلاکنگ ریٹ دیگر کیٹیگریز کے مقابلے میں کم رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسٹاگرام ایکس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے توہین عدالت سوشل میڈیا فیس بک مذہب مخالف نفرت انگیز مواد ویب لنکس یو آر ایل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام ایکس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے توہین عدالت سوشل میڈیا فیس بک مذہب مخالف نفرت انگیز مواد ویب لنکس یو آر ایل لنکس بلاک کیے گئے پر بلاکنگ ریٹ یو آر ایل پی ٹی اے مواد پر کے خلاف مواد کے فیس بک ٹک ٹاک
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔