نمبرز پر مبنی کھیل ذہنی صحت اور صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند منٹ تک بورڈ گیمز کھیلنا دماغی نشوونما اور ذہنی صلاحیتوں کے لیے طویل مدتی فوائد رکھتا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہ خاص طور پر نمبروں پر مبنی بورڈ گیمز بچوں میں ابتدائی ریاضی کی مہارتوں کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں، جو مستقبل کی تعلیمی کامیابی سے جڑی ہوئی ہیں۔
یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف اوریگون میں کی گئی، جس میں 18 مختلف مطالعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان مطالعات میں پری اسکول سے دوسری جماعت تک کے بچوں کی کارکردگی کو جانچا گیا، جہاں بورڈ گیمز کھیلنے اور ابتدائی ریاضی کی صلاحیتوں کے درمیان تعلق کا مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب بچے نمبروں کے سیدھے راستے پر پیس چلانے والے بورڈ گیمز کھیلتے ہیں تو ان کی عددی سمجھ بوجھ میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ محققین کے مطابق ایسے کھیل کھیلنے والے بچوں میں نمبروں سے متعلق صلاحیتوں میں 76 فیصد تک بہتری کے امکانات ظاہر ہوئے، جو ایک غیر معمولی پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ بورڈ گیمز بچوں کو نمبروں کے تسلسل، گنتی اور مقدار کے تصور کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس عمل کے دوران بچے نہ صرف کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ لاشعوری طور پر سیکھنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے، جو رسمی تعلیم کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کی شریک مصنف جینا نیلسن کے مطابق اس موضوع کے انتخاب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچوں کی ابتدائی ریاضی کی صلاحیتوں کا اسکول کی بعد کی زندگی میں کامیابی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نمبر بورڈ گیمز نہ صرف سستے اور آسانی سے دستیاب ہیں بلکہ انہیں گھروں اور اسکولوں میں بھی باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تحقیق کے نتائج والدین اور اساتذہ کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما میں کھیل کے ذریعے مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سادہ بورڈ گیمز بھی بچوں کے دماغی مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔