Nawaiwaqt:
2026-07-24@03:50:58 GMT

محسن نقوی کا دورہ کوئٹہ، شہید میجر انور کے لواحقین سے تعزیت

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

محسن نقوی کا دورہ کوئٹہ، شہید میجر انور کے لواحقین سے تعزیت

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے ساتھ شہید میجر انور کاکڑ کی رہائش گاہ سپنی روڈ جا کر شہید میجر انور کاکڑ کی والدہ، بھائیوں اور کمسن بیٹوں سے ملاقات کرتے ہوئے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ محسن نقوی نے شہید میجر انور کاکڑ کے بیٹوں سے شفقت کا اظہار کرتے ہوئے پیار کیا اور دلاسہ دیا۔ والدہ میجر انور کاکڑ شہید نے کہا کہ میرا بیٹا شیر تھا، وطن پر قربان ہو گیا، بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2 اور بیٹے بھی وطن کے لئے حاضر ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ شہید میجر انور کاکڑ کے دوسرے بیٹے کا بھی ایچیسن کالج میں داخلہ کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کے بھائی خدائیداد خان کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈیمی کا بھی دورہ کیا اور اکیڈمی کی تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ کیا اور اس حوالے سے وزیرداخلہ نے کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس کو ضروری ہدایات دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہید میجر انور کاکڑ کے محسن نقوی نے سرفراز بگٹی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار