جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، حماس کا اہم کمانڈر شہید کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
غزہ میں حماس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تنظیم کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ایک سینیئر رکن جمعرات کے روز وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ حماس سے منسلک ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والا شخص القسام بریگیڈ کا مقامی کمانڈر تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس اسرائیلی حملے میں مجموعی طور پر 6 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 450 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج جنگ بندی کے باوجود فضائی بمباری، ٹینکوں سے گولہ باری، براہ راست فائرنگ اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں جہاں اسرائیلی فوج اب بھی موجود ہے، بلڈوزروں کے ذریعے جزوی طور پر بچی ہوئی عمارتوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںغزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع، امریکا کا حماس کو غیر مسلح کرنے کا اعلان
جنگ بندی کے باوجود تین ماہ کے دوران غزہ میں 100 سے زائد بچے شہید ہوگئے، اقوام متحدہ کا خوفناک انکشاف
غزہ، سخت سردی سے نبرد آزما فلسطینیوں پر تباہ حال عمارتوں کی دیواریں گر پڑیں، 5 افراد شہید
غزہ میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کی تباہی کے باعث خیموں میں یا تباہ شدہ عمارتوں کے بچے کھچے حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج ان علاقوں میں مکانات کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے جہاں اس کے مطابق حماس نے دوبارہ اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی بمباری میں 100 سے زائد بچے بھی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے خاندانوں کے بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا الزام ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک ایک واقعے میں اسرائیلی فوج کے تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج جنگ بندی کے کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔