تاجر کے گھر چھاپے کا معمہ حل، 200 سے زائد وارداتوں میں سہولت کار کا اعترافی بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں تاجر ذیشان کے گھر سادہ لباس اہلکاروں کے چھاپے کا راز کھل گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ذیشان شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی 200 سے زائد وارداتوں میں ملوث ڈکیت گینگ کا سہولت کار نکلا ہے۔
گرفتار ملزم کے ویڈیو بیان میں اعتراف کیا گیا کہ گینگ کی جانب سے لوٹ مار کے دوران حاصل شدہ سامان وہ ذیشان کو فروخت کرتے تھے۔
اس کے علاوہ ملزم نے بتایا کہ گرفتاری کی صورت میں ذیشان کی رہائی کے لیے اقدامات بھی کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی سمیت 14 سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری سے شہر میں لوٹ مار اور جرائم پیشہ گروہوں کی کارستانیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک