لاہور میں 14 سالہ بچی کو اغوا کرکے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور کے علاقے گلشنِ راوی میں 14 سالہ طالبہ کے ساتھ ہونے والے افسوسناک اغوا اور جنسی تشدد کے واقعے کے بعد پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واقعے کے فوری ردعمل میں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ متاثرہ طالبہ کے گھر پہنچیں اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے متاثرہ طالبہ اور اس کے خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ حکومت پنجاب اس جرم کو کسی رعایت کے بغیر قانونی دائرے میں لائے گی۔
حنا پرویز بٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 14 سالہ طالبہ کے ساتھ پیش آنے والا ظلم ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسے سفاک مجرم کو مثال بنایا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔ بچیوں کے خلاف جرائم پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ طالبہ اور اس کے اہلِ خانہ کو مکمل قانونی اور تحفظاتی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ مجرم قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔
پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن نے واضح کیا کہ اغواء اور جنسی تشدد کرنے والا کوئی بھی فرد رعایت کے مستحق نہیں۔
حنا پرویز بٹ نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب کا وژن وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ترجیح ہے اور حکومت ایسے جرائم کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کو جلد عدالت میں پیش کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ شہری حلقوں نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت اور پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حنا پرویز بٹ کے مطابق جائے گی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک