سابق دورحکومت میں 50 لوگوں کو 4 ارب ڈالر صفر شرح سود پردیےگئے: مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو ڈالر 12 فیصد شرحِ سود پر حاصل ہوتے ہیں، جبکہ سابق دور میں صرف 50 افراد کو 4 ارب ڈالر صفر شرحِ سود پر فراہم کر دیے گئے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعد ازاں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی عوام غریب کیوں ہیں، حالانکہ یہی 4 ارب ڈالر نوجوانوں کو چھوٹی صنعتیں لگانے کے لیے دیے جا سکتے تھے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خوشحالی کا راستہ اس وقت طاقت اور اثر و رسوخ تک محدود ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری کو کام اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ مخصوص طبقوں کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس میں رعایت دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اب ریاست کو کاروبار چلانے کے بجائے سہولت فراہم کرنے والے ادارے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق نجکاری کوئی نظریاتی سوچ نہیں بلکہ مارکیٹ میں موجود خرابیوں کو درست کرنے کا عملی طریقہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔