محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران شدید یا ریکارڈ توڑ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
موسم کا احوال بتانے والوں کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو، درست معلومات کیلئے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کر رہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات سردی کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔