اسرائیلی کریک ڈاؤن پر مقبوضہ بیت المقدس میں نجی اسکولز کی ہڑتال‘ ہزاروں طلبہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-01-22
مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹر نگ ڈ یسک) اسرائیلی کریک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ بیت المقدس میں پرائیویٹ اسکولز نے ہڑتال کردی جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوگئیں اور ہزاروں طلبا متاثر ہو رہے ہیں۔فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے سے آنے والے اساتذہ کے ورک پرمٹس محدود کرنے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں درجنوں نجی اسکولوں نے تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ہڑتال کی کال مقبوضہ بیت المقدس میں مسیحی تعلیمی اداروں کے جنرل سیکرٹریٹ نے دی۔جس کے بعد تمام نجی اسکول اس میں شامل ہو گئے۔ہڑتال کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزار طلبا متاثر ہوئے ہیں، جن میں 15 مسیحی اسکولوں کے 8 ہزار 500 طلبا بھی شامل ہیں۔ سینٹ جارج اسکول کے ڈائریکٹر رچرڈ زانانیری کے مطابق اسرائیلی فیصلے سے 171 اساتذہ اور عملے کے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینی ڈگری رکھنے والے مقامی اساتذہ کی بھرتی پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقبوضہ بیت المقدس میں
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔