مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکومت نے مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکومت نے مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )بھارتی حکومت تعلیم میں بھی سیاست لے آئی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلوں نے ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کی مسلم دشمنی بے نقاب کر دی۔
شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج میں نومبر میں شروع ہونے والے5 سالہ ایم بی بی ایس پروگرام کے پہلے بیچ میں مقبوضہ کشمیر کے حصے کی 50 سیٹوں میں سے 42 پر مسلمان طلبا کو میرٹ پر داخلہ ملا جبکہ 7 ہندو اور ایک سکھ طالبعلم کا داخلہ ہوا۔جب مقامی ہندو تنظیموں کو کالج کے پہلے بیچ میں مسلم طلبا کی اکثریت کا علم ہوا تو انہوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ مسلم طلبا کے داخلے منسوخ کیے جائیں۔
ان کا موقف تھا کہ چونکہ یہ کالج ماتا ویشنو دیوی مندر سے بڑی حد تک مالی معاونت حاصل کرتا ہے، اس لیے مسلم طلبا کا ‘وہاں کوئی حق نہیں’۔ہفتوں تک کالج کے باہر روزانہ مظاہرے ہوتے رہے اور نعرے بازی جاری رہی۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے بعض اراکینِ اسمبلی جن پر 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف پالیسیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں نے کشمیر کے گورنر کو درخواستیں دیں کہ کالج میں داخلے صرف ہندو طلبا کے لیے مختص کیے جائیں۔
بعد ازاں مطالبات بڑھتے بڑھتے کالج کی مکمل بندش تک جا پہنچے۔6 جنوری کو قومی میڈیکل کمیشن نے اعلان کیا کہ کالج نے معیاری تقاضے پورے نہیں کیے، اس لیے اس کا لائسنس منسوخ کیا جا رہا ہے۔کمیشن کے مطابق کالج میں تدریسی عملہ، او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد، لائبریری اور آپریشن تھیٹرز میں سنگین خامیاں تھیں۔تاہم بیشتر طلبا نے ان الزامات کو مسترد کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکاجون جیسی غلطی نہ دہرائے، ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جاسکتا: ایرانی وزیر خارجہ امریکاجون جیسی غلطی نہ دہرائے، ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جاسکتا: ایرانی وزیر خارجہ آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا، عمران خان جلد رہا ہوں گے، سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کا دن، ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ترجمان بانی پی ٹی آئی پی ٹی وی میں تمام اینکرز میرٹ پر تعینات ہوئے کوئی سفارش نہیں، وزیر اطلاعات پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہرحال میں غیرمتزلزل رہے گا، وزیراعظم طالبان قیادت میں اندرونی تصادم: کابل بمقابلہ قندھار طاقت کی جنگ سامنے آگئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میڈیکل کالج کالج میں طلبا کو کر دیا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔