مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکومت نے مسلم طلبہ کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-08-26
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی حکومت تعلیم میں بھی سیاست لے آئی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم طلبہ کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلوں نے ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کی مسلم دشمنی بے نقاب کر دی۔شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج میں نومبر میں ہونے والے5 سالہ ایم بی بی ایس پروگرام کے پہلے بیچ میں مقبوضہ کشمیر کے حصے کی 50 سیٹوں میں سے 42 پر مسلمان طلبہ کو میرٹ پر داخلہ ملا جبکہ 7 ہندو اور ایک سکھ طالبعلم کا داخلہ ہوا۔جب مقامی ہندو تنظیموں کو کالج کے پہلے بیچ میں مسلم طلبہ کی اکثریت کا علم ہوا تو انہوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ مسلم طلبہ کے داخلے منسوخ کیے جائیں۔ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ یہ کالج ماتا ویشنو دیوی مندر سے بڑی حد تک مالی معاونت حاصل کرتا ہے، اس لیے مسلم طلبہ کاوہاں کوئی حق نہیں۔ہفتوں تک کالج کے باہر روزانہ مظاہرے ہوتے رہے اور نعرے بازی جاری رہی۔اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے بعض اراکینِ اسمبلی جن پر 2014ء سے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف پالیسیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں نے کشمیر کے گورنر کو درخواستیں دیں کہ کالج میں داخلے صرف ہندو طلبہ کے لیے مختص کیے جائیں۔بعد ازاں مطالبات بڑھتے بڑھتے کالج کی مکمل بندش تک جا پہنچے۔6 جنوری کو قومی میڈیکل کمیشن نے اعلان کیا کہ کالج نے معیاری تقاضے پورے نہیں کیے، اس لیے اس کا لائسنس منسوخ کیا جا رہا ہے۔کمیشن کے مطابق کالج میں تدریسی عملہ، او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد، لائبریری اور آپریشن تھیٹرز میں سنگین خامیاں تھیں۔تاہم بیشتر طلبہ نے ان الزامات کو مسترد کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میڈیکل کالج کالج میں
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔