بالائی علاقوں میں شدید سردی برفباری کی لہر کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ملک کے بالائی علاقوں میں شدید سردی کی لہر اور برفباری کے حوالے سے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق جنوری کے آخر تک گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں رات اور صبح کے اوقات میں موسم انتہائی سرد رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں رابطہ سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم اور بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے،پہاڑی علاقوں میں برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے اور سڑکوں پر شدید پھسلن کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے جس پر این ڈی ایم اے نے عوام سے احتیاط کی اپیل کی ہے۔ شدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گرم کپڑوں کا استعمال کریں اور ہیٹر چلاتے وقت تمام تر حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ دوسری جانب، میدانی علاقوں میں سرد و خشک موسم کے ساتھ کورا یا پالا پڑنے کا خدشہ ہے جس سے فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ناگزیر صورتحال میں برفباری والے مقامات پر گاڑی کے ٹائروں پر حفاظتی زنجیر کا استعمال لازمی کریں، سیاحتی مقامات پر جانے کے خواہش مند افراد وہاں رہائشی سہولیات کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پروگرام تشکیل دیں۔ انتظامی سطح پر تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں برف ہٹانے والی ضروری مشینری کی دستیابی اور دیگر پیشگی حفاظتی اقدامات کو ہر صورت یقینی بنائیں۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم سے متعلق مستند اور بروقت معلومات کے لیے ٹی وی، ریڈیو اور این ڈی ایم اے کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکانٹس سے وابستہ رہیں، مزید برآں "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ" موبائل ایپ کے ذریعے بھی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ تمام ممکنہ خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ اداروں کو موسمی صورتحال کے مطابق مسلسل ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔