ارکانِ اسمبلی کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک، قومی اسمبلی میں خطرے کی گھنٹی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس کا ہیک ہونا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے اور اسمبلی کے متعدد ارکان اس مسئلے کا شکار ہو چکے ہیں۔
نعیمہ کشور خان کا کہنا تھا کہ آئے روز انہیں اور دیگر ارکان کو ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں کسی رکن کا واٹس ایپ ہیک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے رقم طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب ایک نیا طریقہ بھی سامنے آ گیا ہے جس کے تحت شہریوں کو فون کر کے پارسل کی وصولی کے بہانے تصدیقی کوڈ مانگا جاتا ہے جو دراصل ہیکنگ کی کوشش ہوتی ہے۔
خاتون رُکن قومی اسمبلی کا واٹس ایپ ہیک کر کے جاننے والوں سے رقم کا مطالبہ کیا گیا pic.
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) January 16, 2026
انہوں نے کہا کہ انہیں روزانہ پانچ سے چھ ایسے فون موصول ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ اب عام شہریوں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ نعیمہ کشور خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ واٹس ایپ کی جانب سے فیچرز میں تبدیلی کے بعد ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا، تاہم اب کمپنی نے سیکیورٹی فیچرز متعارف کرا دیے ہیں جن کے باعث ان شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
واٹس ایپ نے اپنے فیچرز میں تبدیلی کی تھی جس کی وجہ سے ہیکنگ کے واقعات بڑھے ہیں لیکن اب انہوں نے سیکیورٹی فیچر شامل کیا ہے جس کی وجہ سے ہیکنگ کی شکایات میں کمی آئی ہے، طلال چوہدری pic.twitter.com/0c20zooN0w
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) January 16, 2026
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارکان اسمبلی نعیمہ کشور خان واٹس ایپ ہیک واٹس ایپ ہیکنگ واٹس ایپ ہیکنگ سے بچاؤ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارکان اسمبلی واٹس ایپ ہیک واٹس ایپ ہیکنگ واٹس ایپ ہیک قومی اسمبلی انہوں نے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔