Islam Times:
2026-07-24@01:42:24 GMT

کیا ایران کی اکثریت مادر پدر آزاد معاشرہ چاہتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

کیا ایران کی اکثریت مادر پدر آزاد معاشرہ چاہتی ہے؟

اسلام ٹائمز: ایران میں مذہبی شناخت صرف فقہی یا شعائری سطح پر نہیں بلکہ تہذیبی، تاریخی اور انقلابی سطح پر بھی موجود ہے، لاکھوں ایرانی ایسے ہیں جو فقہی سختی میں نہ بھی ہوں، مگر امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، شہداء، انقلاب اور استکبار دشمنی سے گہرا جذباتی اور نظریاتی رشتہ رکھتے ہیں، ایران کی ''دینداری'' کو صرف عزاداری یا شعائرِ برصغیر کے پیمانے سے ناپنا خود ایک ثقافتی تعصب کی علامت ہے۔ تحریر: آغا زمانی

برادر سید جواد حسین رضوی کا مضمون بظاہر ایران کی فکری و سیاسی ڈیموگرافی کو ''غیر جانبدارانہ مشاہدے'' کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ تحریر ایک ذاتی تجربے، محدود سماجی حلقے اور پہلے سے قائم شدہ مفروضات کا مجموعہ ہے، جسے تجزیے کا نام دے دیا گیا ہے۔ خود مصنف کا یہ اعتراف کہ ''میرے پاس کوئی مستند سروے یا اعداد و شمار موجود نہیں'' اس تحریر کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایک ایسے حساس اور ہمہ جہت موضوع پر، جہاں ریاست، امت، انقلاب اور عالمی سیاست باہم جڑی ہوئی ہیں، محض ذاتی مشاہدہ غیر جانبداری کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

1) ایرانی معاشرہ: ''انتہاؤں'' کا بیانیہ یا تجزیاتی مبالغہ؟
مصنف کا یہ بنیادی دعویٰ کہ ایرانی معاشرہ صرف دو خانوں میں منقسم ہے۔ مذہبی اور مذہب بیزار۔ خود ایرانی سماج کی پیچیدہ ساخت کو سادہ خاکوں میں قید کرنے کی کوشش ہے۔ یہ دعویٰ اس حقیقت سے صرفِ نظر کرتا ہے کہ: ایران میں مذہبی شناخت صرف فقہی یا شعائری سطح پر نہیں بلکہ تہذیبی، تاریخی اور انقلابی سطح پر بھی موجود ہے، لاکھوں ایرانی ایسے ہیں جو فقہی سختی میں نہ بھی ہوں، مگر امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، شہداء، انقلاب اور استکبار دشمنی سے گہرا جذباتی اور نظریاتی رشتہ رکھتے ہیں، ایران کی ''دینداری'' کو صرف عزاداری یا شعائرِ برصغیر کے پیمانے سے ناپنا خود ایک ثقافتی تعصب کی علامت ہے، یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے بعد سے لے کر آج تک چالیس سال سے زائد عرصے میں مسلسل انتخابات، ریفرنڈم، جنگِ تحمیلی میں عوامی شرکت اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کے دفاع میں عوامی بسیج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی عوام کا مذہب سے تعلق محض ''دو انتہاؤں'' تک محدود نہیں۔

2) انقلاب اسلامی اور رہبر سے وابستگی: ایک نظر انداز شدہ حقیقت
مصنف نے اپنے مضمون میں بار بار یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ: انقلاب کا اصل سہارا صرف ''پہلا طبقہ'' ہے، اگر نظام کمزور ہوا تو ایرانی معاشرہ فوراً ''مادر پدر آزاد'' ہو جائے گا۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر واقعی ایرانی معاشرہ اس قدر مذہب بیزار ہے، تو پھر آٹھ سالہ جنگِ تحمیلی میں لاکھوں نوجوان رضاکارانہ محاذ پر کیوں گئے؟ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت پر تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کیوں نکلا؟ آج بھی رہبرِ معظم کے ایک اشارے پر لاکھوں افراد بسیج، سپاہ اور عوامی سطح پر کیوں متحرک ہوتے ہیں؟ دشمن کی کھلی معاشی جنگ کے باوجود نظام کیوں قائم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران میں امام خمینی (رح) اور رہبرِ معظم کی قیادت محض سیاسی اتھارٹی نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور انقلابی مرجعیت کی علامت ہے۔ یہ وابستگی صرف ''قدامت پسندوں'' تک محدود نہیں بلکہ اصلاح پسند عوام کی ایک بڑی تعداد بھی رہبر کو نظام کے ستون کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ جیسا کہ خود مصنف نے اعتراف کیا کہ دونوں دھڑے رہبر کو مانتے ہیں۔ یہ اعتراف دراصل ان کے اپنے اس بیانیے کی نفی کرتا ہے کہ معاشرہ بڑی تیزی سے مذہب سے کٹ چکا ہے۔

3) اصلاح پسند = نظام دشمن: لیکن نتیجہ کہاں گیا؟
مصنف بجا طور پر اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہیں کہ اصلاح پسند اسلامی نظام کے مخالف ہیں لیکن اسی کے ساتھ وہ بار بار یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ: نظام کی بقاء محض ایک ''توازنِ اقتدار'' کی اسٹریٹجی ہے، گویا عوامی حمایت ثانوی ہے، یہ استدلال خود ایک تضاد کا شکار ہے۔ اگر اصلاح پسند بھی انقلاب اور رہبر کو مانتے ہیں، اگر قدامت پسند بھی اور اگر اکثریت مذہبی ہے۔ تو پھر نظام کی اصل طاقت عوامی اعتقاد ہی ہوا، نہ کہ محض اسٹیبلشمنٹ مینجمنٹ۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مصنف کی ذاتی رائے ''غیر جانبدار تجزیہ'' کے لبادے میں واضح ہو جاتی ہے۔

4) احتجاجات: ہائی جیکنگ یا عوامی شعور؟
مصنف نے درست طور پر نشاندہی کی کہ معاشی احتجاجات کو بعض بیرونی و لبرل عناصر ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ: احتجاجی عوام نظام کے خلاف نہیں اور نظام کے خلاف لوگ صرف بیس فیصد ہیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی انقلابی اسلامی امت آج بھی اکثریت میں ہے۔ اگر بیس فیصد سے کم افراد نظام کی سرنگونی چاہتے ہیں تو پھر یہ کہنا کہ ایران جلد ایک ''اسرائیل نواز، مادر پدر آزاد'' معاشرہ بن جائے گا۔ ایک تجزیہ نہیں بلکہ خوف پر مبنی قیاس آرائی ہے۔

آخری بات
برادر سید جواد حسین رضوی کا مضمون معلوماتی ضرور ہے مگر غیر جانبدار نہیں۔ یہ تحریر ذاتی مشاہدے کو سماجی قانون بنا دیتی ہے، اعداد و شمار کے بغیر قطعی نتائج اخذ کرتی ہے، ایرانی امت کی انقلابی شعوری گہرائی کو کم تر دکھاتی ہے اور خود اپنے ہی اعترافات سے اپنے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایران کی اسلامی انقلابی امت آج بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار سے جڑی ہوئی ہے، رہبرِ معظم کو اسلامی نظام کا محافظ سمجھتی ہے، اصلاح کو انقلاب کے اندر رہتے ہوئے چاہتی ہے اور استکبار، صہیونیت اور بیرونی مداخلت کو اجتماعی شعور کے ساتھ رد کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو محض تہران کے محدود سماجی حلقوں میں رہ کر مکمل طور پر نہیں دیکھی جا سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ایرانی معاشرہ اصلاح پسند انقلاب اور نہیں بلکہ ایران کی اور رہبر کہ ایران کرتی ہے نظام کے نظام کی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران