کیا ایران کی اکثریت مادر پدر آزاد معاشرہ چاہتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایران میں مذہبی شناخت صرف فقہی یا شعائری سطح پر نہیں بلکہ تہذیبی، تاریخی اور انقلابی سطح پر بھی موجود ہے، لاکھوں ایرانی ایسے ہیں جو فقہی سختی میں نہ بھی ہوں، مگر امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، شہداء، انقلاب اور استکبار دشمنی سے گہرا جذباتی اور نظریاتی رشتہ رکھتے ہیں، ایران کی ''دینداری'' کو صرف عزاداری یا شعائرِ برصغیر کے پیمانے سے ناپنا خود ایک ثقافتی تعصب کی علامت ہے۔ تحریر: آغا زمانی
برادر سید جواد حسین رضوی کا مضمون بظاہر ایران کی فکری و سیاسی ڈیموگرافی کو ''غیر جانبدارانہ مشاہدے'' کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ تحریر ایک ذاتی تجربے، محدود سماجی حلقے اور پہلے سے قائم شدہ مفروضات کا مجموعہ ہے، جسے تجزیے کا نام دے دیا گیا ہے۔ خود مصنف کا یہ اعتراف کہ ''میرے پاس کوئی مستند سروے یا اعداد و شمار موجود نہیں'' اس تحریر کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایک ایسے حساس اور ہمہ جہت موضوع پر، جہاں ریاست، امت، انقلاب اور عالمی سیاست باہم جڑی ہوئی ہیں، محض ذاتی مشاہدہ غیر جانبداری کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
1) ایرانی معاشرہ: ''انتہاؤں'' کا بیانیہ یا تجزیاتی مبالغہ؟
مصنف کا یہ بنیادی دعویٰ کہ ایرانی معاشرہ صرف دو خانوں میں منقسم ہے۔ مذہبی اور مذہب بیزار۔ خود ایرانی سماج کی پیچیدہ ساخت کو سادہ خاکوں میں قید کرنے کی کوشش ہے۔ یہ دعویٰ اس حقیقت سے صرفِ نظر کرتا ہے کہ: ایران میں مذہبی شناخت صرف فقہی یا شعائری سطح پر نہیں بلکہ تہذیبی، تاریخی اور انقلابی سطح پر بھی موجود ہے، لاکھوں ایرانی ایسے ہیں جو فقہی سختی میں نہ بھی ہوں، مگر امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، شہداء، انقلاب اور استکبار دشمنی سے گہرا جذباتی اور نظریاتی رشتہ رکھتے ہیں، ایران کی ''دینداری'' کو صرف عزاداری یا شعائرِ برصغیر کے پیمانے سے ناپنا خود ایک ثقافتی تعصب کی علامت ہے، یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے بعد سے لے کر آج تک چالیس سال سے زائد عرصے میں مسلسل انتخابات، ریفرنڈم، جنگِ تحمیلی میں عوامی شرکت اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کے دفاع میں عوامی بسیج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی عوام کا مذہب سے تعلق محض ''دو انتہاؤں'' تک محدود نہیں۔
2) انقلاب اسلامی اور رہبر سے وابستگی: ایک نظر انداز شدہ حقیقت
مصنف نے اپنے مضمون میں بار بار یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ: انقلاب کا اصل سہارا صرف ''پہلا طبقہ'' ہے، اگر نظام کمزور ہوا تو ایرانی معاشرہ فوراً ''مادر پدر آزاد'' ہو جائے گا۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر واقعی ایرانی معاشرہ اس قدر مذہب بیزار ہے، تو پھر آٹھ سالہ جنگِ تحمیلی میں لاکھوں نوجوان رضاکارانہ محاذ پر کیوں گئے؟ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت پر تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کیوں نکلا؟ آج بھی رہبرِ معظم کے ایک اشارے پر لاکھوں افراد بسیج، سپاہ اور عوامی سطح پر کیوں متحرک ہوتے ہیں؟ دشمن کی کھلی معاشی جنگ کے باوجود نظام کیوں قائم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران میں امام خمینی (رح) اور رہبرِ معظم کی قیادت محض سیاسی اتھارٹی نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور انقلابی مرجعیت کی علامت ہے۔ یہ وابستگی صرف ''قدامت پسندوں'' تک محدود نہیں بلکہ اصلاح پسند عوام کی ایک بڑی تعداد بھی رہبر کو نظام کے ستون کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ جیسا کہ خود مصنف نے اعتراف کیا کہ دونوں دھڑے رہبر کو مانتے ہیں۔ یہ اعتراف دراصل ان کے اپنے اس بیانیے کی نفی کرتا ہے کہ معاشرہ بڑی تیزی سے مذہب سے کٹ چکا ہے۔
3) اصلاح پسند = نظام دشمن: لیکن نتیجہ کہاں گیا؟
مصنف بجا طور پر اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہیں کہ اصلاح پسند اسلامی نظام کے مخالف ہیں لیکن اسی کے ساتھ وہ بار بار یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ: نظام کی بقاء محض ایک ''توازنِ اقتدار'' کی اسٹریٹجی ہے، گویا عوامی حمایت ثانوی ہے، یہ استدلال خود ایک تضاد کا شکار ہے۔ اگر اصلاح پسند بھی انقلاب اور رہبر کو مانتے ہیں، اگر قدامت پسند بھی اور اگر اکثریت مذہبی ہے۔ تو پھر نظام کی اصل طاقت عوامی اعتقاد ہی ہوا، نہ کہ محض اسٹیبلشمنٹ مینجمنٹ۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مصنف کی ذاتی رائے ''غیر جانبدار تجزیہ'' کے لبادے میں واضح ہو جاتی ہے۔
4) احتجاجات: ہائی جیکنگ یا عوامی شعور؟
مصنف نے درست طور پر نشاندہی کی کہ معاشی احتجاجات کو بعض بیرونی و لبرل عناصر ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ: احتجاجی عوام نظام کے خلاف نہیں اور نظام کے خلاف لوگ صرف بیس فیصد ہیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی انقلابی اسلامی امت آج بھی اکثریت میں ہے۔ اگر بیس فیصد سے کم افراد نظام کی سرنگونی چاہتے ہیں تو پھر یہ کہنا کہ ایران جلد ایک ''اسرائیل نواز، مادر پدر آزاد'' معاشرہ بن جائے گا۔ ایک تجزیہ نہیں بلکہ خوف پر مبنی قیاس آرائی ہے۔
آخری بات
برادر سید جواد حسین رضوی کا مضمون معلوماتی ضرور ہے مگر غیر جانبدار نہیں۔ یہ تحریر ذاتی مشاہدے کو سماجی قانون بنا دیتی ہے، اعداد و شمار کے بغیر قطعی نتائج اخذ کرتی ہے، ایرانی امت کی انقلابی شعوری گہرائی کو کم تر دکھاتی ہے اور خود اپنے ہی اعترافات سے اپنے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایران کی اسلامی انقلابی امت آج بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار سے جڑی ہوئی ہے، رہبرِ معظم کو اسلامی نظام کا محافظ سمجھتی ہے، اصلاح کو انقلاب کے اندر رہتے ہوئے چاہتی ہے اور استکبار، صہیونیت اور بیرونی مداخلت کو اجتماعی شعور کے ساتھ رد کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو محض تہران کے محدود سماجی حلقوں میں رہ کر مکمل طور پر نہیں دیکھی جا سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ایرانی معاشرہ اصلاح پسند انقلاب اور نہیں بلکہ ایران کی اور رہبر کہ ایران کرتی ہے نظام کے نظام کی
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز