دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری اور قرضوں کے خاتمے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی آج جتنی ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے، خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ملک دشمن عناصر کے اشاروں پر کام کر رہا ہے، مگر جس طرح 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا تھا اسی طرح اس بار بھی اسے مکمل طور پر کچل دیا جائے گا۔
اہم ترین—وزیراعظم۔۔۔امن کمیٹی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف کاغربت، بے روزگاری ، قرضوں سے نجات اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ ،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے،وزیراعظم pic.
— Media Talk (@mediatalk922) January 16, 2026
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اسے بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا گیا ہے، اگر ان وسائل کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور عوام کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے عقائد کے مطابق عبادت اور تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے، یہ قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کا حصہ ہے۔ اقلیتی برادری نے تحریک پاکستان اور ملکی ترقی میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کی عظیم کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی نصرت، عوام کی دعاؤں اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن میں عام شہریوں سمیت سکیورٹی فورسز کے افسران و جوان شامل ہیں، یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعظم نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کو مل کر امن، برداشت اور اعتدال کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کے اولین مسلمان آباد کار کون تھے؟
اس موقع پر کنوینر قومی پیغامِ امن کمیٹی مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور علما کرام ملک بھر میں امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔ اقلیتی نمائندوں نے بھی پاکستان کے امن و استحکام کے لیے حکومت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افواج پاکستان بحرِ ہند قومی پیغام امن کمیٹی معرکہ حق وزیراعظم محمد شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افواج پاکستان قومی پیغام امن کمیٹی معرکہ حق وزیراعظم محمد شہباز شریف قومی پیغام پاکستان کی شہباز شریف امن کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔