بھارتی کپتان کا بالی ووڈ اداکارہ پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بھارتی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے بالی ووڈ اداکارہ خوشی مکھرجی پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوریا کمار یادیو نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک متنازع بیان کے بعد سخت قانونی قدم اٹھاتے ہوئے خوشی مکھرجی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خوشی مکھرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ سوریا کمار یادیو انہیں اکثر پیغامات بھیجا کرتے تھے۔
سوریا کمار یادیو کی قانونی ٹیم نے اس الزام کو سراسر جھوٹا، بے بنیاد اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیںبھارتی اداکارہ کا کرکٹر سوریا کمار یادیو سے متعلق حیران کن انکشاف
#KhushiMukherjee #SuryakumarYadav
Why actress Khushi Mukherjee faces Rs 100 crore defamation case over Suryakumar Yadav remarks
Explained ????https://t.
وکلاء کا کہنا ہے کہ اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں اور اس طرح کے غیر مصدقہ بیانات کسی بھی عوامی شخصیت کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
سوریا کمار کی قانونی ٹیم نے مزید واضح کیا کہ مشہور شخصیات کو نشانہ بنا کر بغیر ثبوت الزامات لگانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے عوام میں غلط تاثر بھی پیدا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ایسے اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہوچکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوریا کمار یادیو
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔