غیر قانونی ڈیجیٹل مواد پر پی ٹی اے کا کریک ڈاؤن، 14 لاکھ لنکس بلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
غیر قانونی ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر پاکستان میں ایک ملین سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کر دیے گئے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی کریک ڈاون سے متعلق جامع رپورٹ دنیا نیوز نے حاصل کر لی۔لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک پر غیر قانونی اور نامناسب مواد شئیر کرنے پر سب سے زیادہ بلاکنگ کی گئی، پی ٹی اے نے فیس بک کے 2 لاکھ 29 ہزار لنکس چیک کر کے رپورٹ کیے، 1 لاکھ 97 ہزار بلاک ہوئے۔انسٹاگرام پر 43 ہزار یو آر ایل چیک جبکہ 38 ہزار بند کیے گئے، ٹک ٹاک کے ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد غیر قانونی مواد کےلنکس چیک کیے گئے اور ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد ٹک ٹاک ویڈیوز کے لنکس بند کیے گئے، رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر سب سے سخت کریک ڈاؤن کیا گیا 94 فیصد مواد بلاک کیا گیا۔یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کی گئی اور 64 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔ایکس/ ٹویٹر کے ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد لنکس چیک کیے گئے، 70 ہزار آٹھ سو لنکس بلاک کیے گئے، ٹوئٹر پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم، صرف 62 فیصد مواد بلاک کیا جا سکا، دوسرے مختلف پلیٹ فارمز پر 8 لاکھ 98 ہزار لنکس میں سے 8 لاکھ 91 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق توہین عدالت، بیہودگی، مذہب کے خلاف، پراکسی اور نفرت انگیز مواد کے 14 لاکھ سے زائد لنکس اور یو آر ایل بند کر دیے گئے۔بیہودگی اور اخلاقیات کے خلاف مواد سرفہرست رہا اور 10 لاکھ 61 ہزار سے زائد لنکس بلاک کر دیے گئے جبکہ ریاست اور دفاع پاکستان کے خلاف 1 لاکھ 48 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، مذہب کے خلاف مواد پر 1 لاکھ 9 ہزار سے زائد لنکس بند کیے گئے، فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہی۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔