پاکستان سٹاک ایکسچینج ہفتے کے آخری روز ایک لاکھ 84 ہزار کی حد پار کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز نمایاں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان سٹاک ایکسچینج 3100 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 84 ہزار پوائنٹس کی حد پر ٹریڈ کر رہی ہے، حصص بازار میں تیزی کے ساتھ ریکوری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔خیال رہے کہ کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی، 1000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 83 ہزار 717 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔تاہم ٹریڈنگ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں اچانک مندی چھاگئی جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس 1113 پوائنٹس کی کمی کیساتھ ایک لاکھ 81 ہزار 456 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز 31 ارب 7 کروڑ 28 لاکھ 20 ہزار 173 روپے مالیت کے 28 کروڑ 13 لاکھ 7 ہزار 943 شیئرز کا لین دین ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سٹاک ایکسچینج پاکستان سٹاک پوائنٹس کی ایک لاکھ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔