ماتلی اور ضلع بدین میں گندم وآٹے کا بدترین بحران
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (جسارت نیوز)ماتلی اور ضلع بدین میں گندم و آٹے کا بدترین بحران،آٹا 130 روپے فی کلو، 40 کلو کا کٹا 5 ہزار روپے کے قریب گندم 2200 روپے من خرید کر 4800 روپے میں فروخت،ذخیرہ اندوزی، حکومتی غفلت اور آئی ایم ایف دباؤ نے غریب عوام کو کچل دیا۔ماتلی، ضلع بدین اور پسماندہ سندھ کے دیگر علاقوں میں گندم اور آٹے کا بحران انتہائی تشویشناک اور خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ آٹے کی قیمت اوپن مارکیٹ میں 130 روپے فی کلو کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ ایکس مل ریٹ پر 40 کلوگرام آٹے کا کٹا 5 ہزار روپے کے لگ بھگ فروخت ہو رہا ہے۔ اس بے قابو مہنگائی نے دیہاڑی دار مزدور، کم آمدنی والے طبقے اور روزانہ کی بنیاد پر خریداری کرنے والے افراد کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق گندم کے سیزن کے دوران گندم 2200 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی، جسے آٹا ملوں کے مالکان کے ساتھ ساتھ چاول اور کپاس کی ملوں سے وابستہ بااثر صنعتی مالکان نے بڑی مقدار میں خرید کر اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیا۔ یہ وہی گندم ہے جو چاندی کے ریٹ پر خریدی گئی، مگر آج مارکیٹ میں سونے کے سکے کے ریٹ سے بھی زیادہ مہنگی فروخت کی جا رہی ہے۔ یہی ذخیرہ شدہ گندم اب 4500، 4600 اور بعض علاقوں میں 4800 روپے فی 40 کلو کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، یعنی چند ہی مہینوں میں اس کی قیمت دگنی کر دی گئی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سونے جیسی قیمتی گندم کو چاندی کے بھاؤ خرید کر، سونے سے بھی مہنگے داموں بیچنا کھلی منافع خوری اور عوام دشمنی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں چند مل مالکان نے قلیل عرصے میں اربوں روپے کمائے اور بعض ذرائع کے مطابق وہ ارب پتی سے کھرب پتی بن گئے، جبکہ دوسری جانب پسماندہ اضلاع کے غریب عوام ایک وقت کی روٹی کے لیے ترسنے لگے ہیں۔ کئی علاقوں میں فاقہ کشی، غذائی قلت اور معاشی بدحالی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی بروقت اور مطلوبہ مقدار میں سرکاری خریداری نہ کرنا، آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر گندم کے ذخائر محدود رکھنا اور مارکیٹ پر مؤثر کنٹرول نہ کرنا اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ فوڈ ڈپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی خاموشی نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جو من مانی قیمتوں پر آٹا فروخت کر کے عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے ذخائر فوری طور پر مارکیٹ میں لائے جائیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے، فلور ملوں کو سرکاری نرخ پر گندم فراہم کی جائے اور آٹے کی قیمتوں کو فوری کنٹرول میں لایا جائے۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو عوامی بے چینی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔