صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس، 11 ارب کے فنڈز منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-08-8
لاہور(مانیٹر نگ ڈ یسک ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 11 ارب روپے کے فنڈز منظور کر لیے گئے۔ فنڈز کی منظوری صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 59 ویں اجلاس میں دی گئی، اجلاس کی صدارت چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ ڈاکٹر نعیم رؤف نے کی۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ، لاہور کے پرانے بلاکس کی بحالی کیلیے 2 ارب 50 کروڑ ، الائیڈ اسپتال، فیصل آباد کیلیے ایسکیلیریٹر کی خریداری کیلیے 1 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ ڈیفنس ڈچز کو پانی کی فراہمی کیلیے ڈسٹری بیوٹریز اور مائنرز کی استعداد میں اضافے اور توسیع کیلیے 1 ارب 50 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔ اجلاس میں اہم نہروں کی لائننگ کے ذریعے کینال کنوینس اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کیلیے 6 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) سیکرٹریٹ کی استعداد میں اضافے اور کالجز کے لیے ERP سسٹم کی فراہمی کے لیے پوزیشن پیپر کی منظوری بھی دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی منظوری
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔